برطانیہ میں سیاست کا درجہ حرارت ایک بار پھر بلند ہو گیا ہے۔ پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ زہرا سلطانہ نے 14 سالہ سیاسی وابستگی کے بعد لیبر پارٹی کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی فلسطین کے حوالے سے پالیسی اور فلاحی ریاست کے سوشل بینیفٹس سسٹم پر موجودہ مؤقف سے وہ شدید اختلاف رکھتی ہیں۔
زہرا سلطانہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں نہ صرف استعفے کی تصدیق کی بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے جا رہی ہیں، جس میں ان کے ہمراہ سابق لیبر لیڈر جیرمی کوربن بھی ہوں گے۔
انہوں نے کہا:
"ہم ایسی سیاسی قوت بنانا چاہتے ہیں جو صرف انتخابات جیتنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی حقیقی نمائندگی کے لیے ہو۔”
یہ پیش رفت لیبر پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان تصور کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات اور پالیسی بحران کا شکار ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلطانہ کا اقدام نہ صرف بائیں بازو کی سیاست کو نیا پلیٹ فارم فراہم کرے گا، بلکہ برطانوی پاکستانیوں کے لیے بھی ایک نئی سیاسی شناخت ابھر کر سامنے آ سکتی ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان کی نئی جماعت کس حد تک عوامی حمایت حاصل کر پاتی ہے، اور کیا یہ برطانوی سیاست میں کوئی بڑا موڑ لے آئے گی یا نہیں۔









