• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
پیر, 2 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home کاروبار
شرح نمو

حکومت کی شرح نمو کم ہو کر 0.8 فیصد رہنے کی پیش گوئی

News Editor by News Editor
اپریل 27, 2023
in کاروبار
0 0
0

اسلام آباد (کامرس ڈیسک)حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ (جولائی سے دسمبر)میں قرضوں میں عدم توازن کے بعد خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مالی ضروریات بدستور بلند رہیں گی اور اگلے مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد ہوگی جو رواں برس 28.5 فیصد ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کے اقتصادی مشاورتی ونگ نے قرضوں سے متعلق اپنی جائزہ رپورٹ میں بیان کیا کہ قرضوں کے خطرات بدستور بلند ہیں، قرضوں اور مالی ضروریات کے حوالے سے جی ایف این سے جی ڈی پی کی شرح میں اضافے اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کے مالی سال 2023 میں حد کی وجہ سے خطرات نمایاں ہوگئے ہیں۔

جائزے میں بتایا گیا کہ ایکسچینج ریٹ میں منفی اثرات قرضوں کا تناسب مالی سال 2026 تک جی ڈی پی کی حد 70 فیصد سے اوپر تک بڑھائیں گے اور حکومت نے پہلی مرتبہ شرح نمو کا تخمینہ 0.8 فیصد لگایا ہے جو بجٹ اندازے کے 5 فیصد کے مقابلے میں آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے 0.4 فیصد سے 0.6 فیصد تک کے امکان سے زیاد ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیاسی اور اقتصادی ماحول میں عدم استحکام، کرنسی کی گراوٹ اور بجلی کی قیمت میں اضافے سے مالی سال 2023 میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 28.5 فیصد رہنے کا خدشہ تھا اور اگلے مالی سال میں 21 فیصد رہنے کا امکان ہے۔وزارت خزانہ نے اندازہ لگایا تھا کہ متوازن ایکسچینج ریٹ، زراعت میں بہتری، سیاسی استحکام اور بہتری کے اندازے کی روشنی میں مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد سے کم ہو کر 6.5 رہے گی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے مطابق حکومت نے اعتراف کیا کہ موجودہ مہنگائی کا دبا کم ہونے میں وقت لگے گا اور یہ کساد بازاری کی عوض نہیں ہونا چاہیے تاہم جو اقدامات کیے گئے ہیں اس سے مالی سال 2026 تک مہنگائی کی شرح بتدریج کم ہو کر 6.5 تک آجائے گی۔

جائزے میں تصدیق کی گئی کہ قرضوں کی سرکاری ضمانتیں دسمبر 2022 میں 550 کھرب روپے سے زائد تک پہنچ گئی تھیں جو مالی سال 2022 کے اختتام کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ اضافہ شرح سود میں اضافہ اور مالی سال 2023 کے 6 ماہ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 11 فیصد گراوٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقامی سطح پر قرض مجموعی قرض کا 62.8 فیصد ہے اور دوسری جانب مجموعی قرضوں کا 37.2 فیصد بیرونی قرض ہے جو مختلف کثیرالجہتی ترقیاتی اداروں، دو طرفہ قرض دہندگان اور کمرشل ذرائع سے ملا ہے۔
مالی سال 2023 کے پہلے 6 ماہ کے دوران آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کی کامیاب تکمیل پر 1.66 ارب ڈالر کے اجرا کے ساتھ ساتھ چین سے ایک ارب ڈالر کا رول اوور اور سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی ڈپازٹ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔علاوہ ازیں حکومت کو بین الاقوامی اداروں سے 3.298 ارب ڈالر وصول ہو گئے ہیں، اسی طرح حکومت نے 2.72 ارب ڈالر اور ایک ارب ڈالر بالترتیب بین الاقوامی کمرشل قرضے اور بین الاقوامی سکوک کی مد میں ادا کر دیے ہیں۔مالی سال 2022 میں جی ڈی پی کی بنیاد پر قرضوں کی ضمانتوں میں روپے کی قدر میں کمی اور بنیادی خسارے کی وجہ سے 75.8 فیصد سے اضافہ ہو کر 78 فیصد ہوگیا تھا اور مالی خسارے کے لیے فنڈز کے اجرا کا بنیادی ذریعہ مقامی قرض تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں بدترین سیلاب، سخت مالی صورت حال، ناموافق عالمی معاشی ماحول میں مالی سال 2023 میں حقیقی جی ڈی پی کے شرح نمو کا تخمینہ 0.8 فیصد ہے، شرح نمو کا تخمینہ مالی سال 2026 تک 5.5 فیصد لگایا گیا تھا تاہم پائیدار اقتصادی ترقی یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی۔

اقتصادی ونگ کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درمیانی مدت میں 3.5-5.5 فیصد شرح نمو کا اندازہ قیمتوں میں استحکام، مالی اور بیرونی شعبے کی پائیداری کے ساتھ لگایا گیا تھا۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: حکومتشرح نمو
Previous Post

پاک سوزوکی کا ایک ہفتے کیلئے پروڈکشن بند کرنے کا اعلان

Next Post

وفاقی وزارت خزانہ نے ملکی قرضوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی

News Editor

News Editor

Next Post
وفاقی وزارت خزانہ

وفاقی وزارت خزانہ نے ملکی قرضوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

571
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading