پاک فوج کی نوجوان خاتون افسر کیپٹن ایمان درانی ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب چرچا میں ہیں، جن کا ایک ولولہ انگیز بیان نہ صرف وائرل ہو چکا ہے بلکہ بحث و مباحثے کا نیا موضوع بھی بن گیا ہے۔
اپنے خطاب میں کیپٹن ایمان درانی نے واضح انداز میں کہا: "پاک فوج جو کچھ بھی کرتی ہے، وہ پبلک انٹرسٹ میں کرتی ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ فوج کے تمام اقدامات درست ہوں، لیکن ان کی نیت عوامی مفاد کے تحفظ کی ہوتی ہے۔
کیپٹن ایمان کا اندازِ بیان، صاف گوئی اور جذبہ حب الوطنی سوشل میڈیا صارفین کو متاثر کر گیا۔ کچھ افراد نے ان کے الفاظ کو سراہا، جبکہ دیگر نے تنقیدی زاویہ اپناتے ہوئے سوالات اٹھائے کہ ’عوامی مفاد‘ کا تعین کون کرتا ہے۔
ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر ان کے خطاب کے کلپس ہزاروں بار شیئر ہو چکے ہیں، اور ’کیپٹن ایمان درانی‘ اس وقت پاکستان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی نوجوان فوجی افسر نے براہِ راست عوام سے بات کی ہو، مگر ایمان درانی کا انداز، لہجہ اور جرات مندی انہیں منفرد بناتے ہیں۔ بہت سے صارفین انہیں ایک ’نئی نسل کی آواز‘ قرار دے رہے ہیں، جو اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
جہاں کچھ حلقے ان کے بیان کو فوجی بیانیے کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، وہیں کئی افراد کا ماننا ہے کہ ایسے نوجوان افسران کا سامنے آنا ایک مثبت اشارہ ہے، کیونکہ یہ شفافیت اور مکالمے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔









