• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
پیر, 2 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home چائنہ کی خبریں
چین

جب دنیا "چین کو ٹٹولتے ہوئے دریا پار کرنے” لگی، چینی میڈ یا

Muhammad Siddique by Muhammad Siddique
جون 25, 2025
in چائنہ کی خبریں
0 0
0

"چین کو ٹٹولتے ہوئے دریا پار کرنا”۔ یہ فقرہ آج کل کے دور میں کئی ممالک کی جانب سے چین کے ترقیاتی تجربات سے استفادہ کرنے کے عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اصل میں چین کے مرحوم معاشی رہنما چھن یون کے 1950 میں پیش کردہ ایک نعرے "پتھروں کو ٹٹولتے ہوئے دریا پار کرو” کی جدید شکل ہے، جس کا مطلب یہ تھا کہ معاشرتی و معاشی ترقی اور اصلاحات کے تجربے کی کمی کے دور میں بڑے پیمانے پر تجربات کریں، متجسس انداز میں راستہ تلاش کریں، اصولوں کو سمجھیں اور مستحکم طور پر آگے بڑھیں۔

1978 میں شروع ہونے والی چین کی اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی اسی "پتھروں کو ٹٹولتے ہوئے دریا پار کرو” کے اصول پر عمل کرتی رہی، جس میں مقامی سطح پر تجربات کرنے، تجربات سے سبق سیکھنے اور پھر انہیں وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کے ذریعے چین نے اپنی قومی خصوصیات کے مطابق ترقی کا راستہ تلاش کیا۔ آج کئی ممالک چین کے اس ترقیاتی ماڈل سے استفادہ کر رہے ہیں اور قابل ذکر کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ "چین کو ٹٹول کر دریا پار کرنا” کا یہ فقرہ چین کے عالمی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔

جب ویتنام نے چین کی اصلاحات کی تقلید کرتے ہوئے 6% سالانہ شرح نمو کے ساتھ "جنگ کے بعد ترقیاتی معجزہ” تخلیق کیا، جب روانڈا چینی ماڈل اپنا کر افریقہ کی نئی ترقیاتی قوت بن کر ابھرا، جب امریکی اعلیٰ عہدیدار نے چین کی "طویل المدتی منصوبہ بندی کی صلاحیت” سے سیکھنے کی بات کی ، تو عوامی مرکزیت پر مبنی، عملی اور کھلے چینی ترقیاتی نمونے نے عالمی سطح پر اپنی افادیت ثابت کی ہے، جو نظریات سے بالاتر ہو کر ایک جدید ترقیاتی نقطہ نظر اور کامیابی کا راستہ بن چکا ہے۔

ویتنام کی مثال لیجئے۔ بہت سے چینی باشندوں کی نظر میں ویتنام خوراک، لباس، رہائش اور نقل و حمل سے لے کر ثقافت اور معیشت تک ایک "چین کا چھوٹا ورژن” لگتا ہے۔ ان کی اصلاحات کی راہ بھی واضح طور پر چینی انداز کی پیروی کرتی ہے۔ ویتنام نے 1986 سے چین کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اصلاحات پر مبنی اور کھلی پالیسی اپنائی اور سوشلسٹ مارکیٹ معیشت قائم کی۔

ابتدائی اصلاحات میں سنگین معاشی بحران کے پیش نظر کچھ محدود اور بتدریج اقدامات کیے گئے، جیسے کہ زراعت، صنعت اور بیرونی تجارت پر کنٹرول میں نرمی، نجی کاروبار اور مارکیٹ لین دین کی اجازت، کسانوں کو زمین کے استعمال کے حقوق کی تقسیم وغیرہ۔ بعد میں وسیع پیمانے پر گہری اصلاحات کی گئیں جن میں سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی کا قیام، غیر اہم شعبوں میں نجی ملکیت کو تسلیم کرنا، سرکاری اداروں کی اصلاح اور نجی شعبے کی ترقی، عالمی تجارتی تنظیم اور علاقائی معاشی گروپوں میں شمولیت، اور کھلے پن کی پالیسیاں شامل ہیں۔ان اقدامات نے ویتنام کی معاشی ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا اور بین الاقوامی سطح پر انضمام کو فروغ دیا، جس سے ویتنام جنوب مشرقی ایشیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک بن گیا۔

صرف ویتنام ہی نہیں، بلکہ گلوبل ساؤتھ کے وسیع خطوں میں چین کے تجربات مقامی حالات کے مطابق ترقیاتی قوت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ازبکستان نے غربت کے خلاف قومی حکمت عملی اور اہداف طے کیے ہیں اور تمام صوبوں میں غربت کے خلاف چین کے تجربات کو آزمایا جا رہا ہے۔ تقریباً دس ہزار ازبک شرکاء نے غربت کے خلاف چین کے آن لائن تربیتی کورسز میں حصہ لیا۔ ازبکستان نے کمیونٹی پر مبنی ایک نظام قائم کیا ہے جس میں "غریب خاندانوں کی مدد کی فہرست”، "خواتین کی مدد کی فہرست” اور "نوجوانوں کی مدد کی فہرست” اہم حصہ ہیں، اور اس کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔

ایسی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ ان عملی اقدامات سے چینی ماڈل کی روح واضح ہوتی ہے: ریاستی رہنمائی اور مارکیٹ کی سرگرمیوں کا باہمی تعاون، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کی بنیاد رکھنا، اور مخلوط ملکیت کے نظام کے ذریعے معیشت کو خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرنا۔ تبدیل ہوتی معیشتوں کے لیے چین نے بتدریج اصلاحات کا ایک سائنسی طریقہ کار پیش کیا ہے، جس میں "پائلٹ پراجیکٹس – وسیع نفاذ” کا طریقہ کار انتہائی تبدیلیوں کے جھٹکوں سے بچاتا ہے، جبکہ کھلے پن کی پالیسی اصلاحات کے لیے قوت محرکہ بنتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک بھی چینی راستے کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کر رہے ہیں۔ امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے حال ہی میں کہا کہ چین کے ساتھ تین سال کے تعلقات سے انہیں بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے خاص طور پر چین کی "طویل المدتی اور مسلسل حکمت عملی” اور دوسرے ممالک کے ساتھ ترقی کے فوائد بانٹنے پر مبنی "باہمی تعاون سے جیت جیت” ماڈل کا ذکر کیا۔ صرف امریکہ ہی نہیں، موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں چین نے "کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی” کے اہداف کو صنعتی مواقع میں تبدیل کر کے "چیلنجز کو قوت میں بدلنے” کا عملی فلسفہ پیش کیا ہے، جس سے یورپی یونین کی گرین ڈیل نے بھی استفادہ کیا ہے۔

"بیلٹ اینڈ روڈ” انیشی ایٹو نے 150 سے زائد ممالک کے تعاون کے نیٹ ورک کے ذریعے مشاورت، مشترکہ تعمیر اور فوائد کی برابر کی شراکت کے نظریے سے کثیر الجہتی نظام کی روح کو نئی شکل دی ہے، جس نے زیرو سم گیم کی سوچ کو ترک کرتے ہوئے "شراکت” کو انسانی ترقی کا نیا اصول بنا دیا ہے۔

بلاشبہ، دنیا کو محض کسی ایک ماڈل کی نقل کی نہیں، بلکہ تحریک کے مختلف ذرائع کی ضرورت ہے۔ ویتنام کی فیکٹریوں کی مشینوں کی آوازیں، صحارا ریگستان میں شمسی پینلز، اور ڈیووس فورم میں "نئ معیاری پیداواری صلاحیتوں” پر بحث ، یہ سب مل کر کسی اندھی تقلید کے بجائے متنوع ترقی کی ایک ہم آہنگ تصویر پیش کرتے ہیں۔ چینی راستے کی حتمی معقولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ ہر ملک اور قوم اپنے قومی حالات کے مطابق اپنے لیے موزوں ترقی کا راستہ تلاش کر سکتی ہے، اور یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ انسانیت بالادستی کے نظریات اور طاقت پر انحصار کے نظریوں سے بالاتر ہو کر آزاد انہ جدت طرازی اور مشترکہ تقدیر کے توازن میں جدید تہذیب کی تعمیر کر سکتی ہے۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Previous Post

چائنا میڈیا گروپ کی پروڈیوس کردہ فیچر فلم کی اطالوی مین اسٹریم میڈیا میں وسیع پزیرائی

Next Post

ایس سی او کے رکن ممالک کی سلامتی کونسل کے سیکرٹریوں اور وزرائے دفاع کے اجلاس میں سلامتی سے متعلق امور پر غور

Muhammad Siddique

Muhammad Siddique

Next Post
ایس سی او

ایس سی او کے رکن ممالک کی سلامتی کونسل کے سیکرٹریوں اور وزرائے دفاع کے اجلاس میں سلامتی سے متعلق امور پر غور

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

571
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading