ریاض(انٹرنیشنل نیوز)سعودی وزیر سرمایہ کاری انجینئر خالد الفالح نے کہا ہے کہ ہم جاپان کے ساتھ اپنی شراکت داری میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں۔
ہم جاپان کے ساتھ کئی شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ ہم نے جاپان کے ساتھ مختلف شعبوں میں 26 معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہم جاپان کے ساتھ صاف توانائی کے کئی منصوبوں پر کام کریں گے۔
سعودی وزیر سرمایہ کاری نے کئی معاملات پر جاپان کے ساتھ عظیم معاہدے کی توثیق کی۔خالد الفالح نے کہا کہ جاپانی وزیر اعظم نے سعودی عرب اور جاپان کے تاجروں اور کاروباری خواتین کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ فومیو کشیدا اپنے ساتھ ایک بڑا وفد لے کر آئے ہیں۔ وفد میں 44 معروف جاپانی بڑی کمپنیوں اور مختلف شعبوں میں ابھرتی ہوئی اور اختراعی کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔
سعودی وزیر سرمایہ کاری نے مزید کہا کہ جاپانی وزیر اعظم نے کاروباری رہنماں کے ساتھ ویژن 2030 کے لیے مملکت اور جاپان کی شراکت داری میں ایک نئے دور کے آغاز کے بارے میں اپنے ویژن کے بارے میں بات کی۔اس ویژن میں توانائی اور موسمیاتی تبدیلی پر مرکوز نئے عناصر کا اضافہ کیا گیا۔ جاپانی وزیر اعظم نے اعلی درجے کی مصنوعات کی تیاری،
مواد، بیٹریاں اور سیمی کنڈکٹرز اور ٹیکنالوجیز پر انحصار کرنے والی نئی اختراعات میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔خالد الفالح کے مطابق فومیو کشیدا نے سعودی عرب کے لیے مشرق وسطی میں ایک مرکز بننے اور دنیا کو صاف توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اڈا بننے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا فومیو کشیدا کی یہ خواہش سعودی ولی عہد کی جانب سے توانائی کے شعبے میں شروع کیے گئے اقدامات کے موافق ہے۔
اسی طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے ساتھ ہائیڈروجن نیوم پروجیکٹ اور آرامکو پروجیکٹس جیسے اقدامات بھی جاری ہیں۔خالد الفالح نے کہا کہ مستقبل کے تصورات اور سمتوں میں یہ ایک عظیم معاہدہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں جو تعاون کی بلندیوں کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت، مالیاتی ٹیکنالوجی، خزانہ، برآمدات، لاجسٹکس، سیاحت، تفریح اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں 26 معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں ۔









