نئی دہلی ( نیوز رپورٹر)انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی 18ویں ایڈیشن کیلئے نئے قوانین متعارف کروادیے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے نئے سیزن کے آغاز سے کچھ روز قبل ہی کھیل میں اہم تبدیلیاں کردی ہیں۔سیزن کے افتتاحی میچ، جو موجودہ چیمپئن کولکتہ نائٹ رائیڈرز اور رائل چیلنجرز بنگلور کے درمیان کولکتہ میں کھیلا جائے گا، اس میں تین اہم تبدیلیاں اور نئے قوانین متعارف کروائے جارہے ہیں۔کورونا وائرس وبا کے بعد سے گیند پر بالرز یا کھلاڑیوں کے تھوک لگانے پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کو اٹھالیا گیا ہے، اب یہ اقدام واپس لے لیا گیا تھا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 2022 میں تھوک پر پابندی کو مستقل بنایا تھا تاہم آئی پی ایل نے قوانین میں ردوبدل کرتے ہوئے اسکی اجازت دیدی ہے۔رواں ایڈیشن کے دوران شام کے میچز کے وقت اگر امپائرز کو لگے کہ دوسری اننگز میں شبنم (ڈیو) کا اثر گیند پر پڑرہا ہے تو وہ 11ویں اوور سے ایک نئی گیند استعمال کی اجازت دے سکتا ہے
جس کا فائدہ بالنگ سائیڈ کو ہوگا تاہم یہ قانون دوپہر کے میچوں پر لاگو نہیں ہوگا۔پہلی بار، ڈیسیژن ریویو سسٹم (ڈی آر ایس) کو وائیڈ گیندوں کیلئے بھی استعمال کیا جاسکے گا، جس میں اونچائی والی وائیڈز اور آف سائیڈ وائیڈز شامل ہیں، اگر بالرز اور کپتان کو لگے کہ وائیڈ بال امپائر نے ناجائز دی ہے تو وہ اسے ریویو کرواسکتا ہے۔
بی سی سی آئی نے امپیکٹ پلیئر کے قانون کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جو فرنچائزز کو روایتی 11 کی بجائے 12 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دیتا ہے۔ گزشتہ سال اس قانون کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں کئی لوگوں نے کہا تھا کہ یہ قانون آل راؤنڈرز کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے تاہم، بی سی سی آئی نے اس سال بھی اس قانون کو برقرار رکھا ہے۔









