اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وفاقی کابینہ نے توڑ پھوڑ اور جلا ﺅگھیرا ﺅملک کے خلاف گھناﺅنی سازش قراردیتے ہوئے ملک میں فوری ایمرجنسی کے نفاذ کا مطالبہ کر دیا،
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،اجلاس میں ارکان کا ملک میں پرتشدد کارروائیوں پرتشویش کا اظہارکیا،کابینہ نے توڑ پھوڑ اور جلا ﺅگھیرا ﺅملک کے خلاف گھناﺅنی سازش قراردیدی،کابینہ کے شرکا کو بلوائیوں کے خلاف کی جانیوالی کارروائیوں پربریفنگ دی گئی،اجلاس میں شرپسندی میں ملوث عناصرکےخلاف سخت ایکشن لینے پراتفاق ہوا،
وزیراعظم کا کابینہ اجلاس کے شرکا سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ کل جوسپریم کورٹ میں ہوا وہ پوری قوم نے دیکھا،عدلیہ کا احترام کرتے ہیں لیکن جو کچھ ہو رہا ہے سب کے سامنے ہے،ایک ملزم کو پروٹوکول کے ساتھ سپریم کورٹ بلایا گیا،عمران خان کیلئے سہولت کاری کی جا رہی ہے،وزیراعظم نے مزید کہا کہ امن وامان برقرار رکھنے کیلئے تمام وسائل بروئے کارلائے جائیں گے،کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی،جناح ہاﺅس،سرکاری،عسکری تنصیبات پرحملے کرنے والوں کو گرفت میں لایا جائےگا،
ریاست کی عملداری کو یقینی بنانے کیلئے ہرحد تک جائیں گے۔اتحادی رہنماﺅں کی مشاورت سے آگے بڑھیں گے، ذرائع کےمطابق کابینہ اجلاس کے دوران بیشتر کابینہ اراکین نے وزیراعظم کو ملک میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا مشورہ دیا،وفاقی کابینہ کے اراکین نے کہا کہ ملک میں سکیورٹی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیراعظم کوئی اقدامات کریں،
اس پر وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم اور اتحادیوں سے ملنا چاہتاہوں ان سے مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا،دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی کا ملتوی ہونے والا اجلاس اب 16مئی منگل کو ہوگا، اجلاس میں قومی سلامتی امورزیرغور آئیں گے۔عسکری اور سول قیادت اجلاس میں شرکت کرے گی۔









