ملتان(تعلیم ڈیسک ) بہائو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سکول آف اکنامکس میں سیمینار
بعنوان عنوان ‘میکرو اکنامک انسٹیبلٹی اینڈ دی رول آف نیولی فارم اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل آف پاکستان اکانومی ‘ منعقد ہوا۔ اس موقع پر چیئرمین سٹیٹ بینک میموریل ڈاکٹر طلعت انور نے خطاب کرتے ہوئے سپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل کے رول کے حوالے سے بتایا کیا کہ یہ بہت ہی اہم انیشیٹیو ہے۔ سپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل ملک میں معاشی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی کیونکہ اس وقت ملک کے معاشی اشاریے بہت خراب ہیں.
اور بیرونی سرمایہ کار ملک میں نہیں آرہے ہیں جب تک ملک کے معاشی اشاریئے مائیکرو اکنامک انڈیکیٹر بہتر نہیں ہوں گے اس وقت تک بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں نہیں آئیں گے اس کے لیے ضروری ہے کہ مائکرو ایکنامک انسٹیبلٹی کو دور کیا جائے اور معاشی استحکام لایا جائے جس میں ایکسچینج ریٹ کی سٹیبلٹی کی بہت ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں کمی ہونی چاہیے.اور جو دوسری چیز ملک کے لئے خطرہ ہے وہ خسارہ ہے حکومت کو چاہیے میں بھی کمی کے لیے اقدامات کرے.
اس موقع پر ڈاکٹر محمد رمضان شیخ پروفیسر آف اکنامکس بہائو الدین زکریا یونیورسٹی نے اپنی پریزنٹیشن دی اور انہوں نے بتایا کہ سپیشل اکنامک انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل کا قیام بہت ضروری تھا جو کہ مختلف پانچ ایریا میں ایگریکلچر، منرلرز ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیفنس پروڈکشن میں کام کریں گے ان ایریاز میں ہمارے ملک میں باہر سے انویسٹمنٹ آئے گی. جس کی ملک میں بہت ضرورت ہے.
پروفیسر ڈاکٹر ظاہر فریدی ڈائریکٹر سکول آف اکنامکس نے سیشن کو چیئر کیا اور انہوں نے اپنے خطاب میں سپیشل اکنامک انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی کہ یہ کیوں ضروری ہے ملک میں ایگریکلچر سیکٹر کو فروغ دیا جائے اور ایگریکلچر سیکٹر کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکالوجی جس میں ہمارے نوجوان بہت قابل ہیں کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان اپنا کردار ادا کر سکیں اور ملک کی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔









