اسلام آباد (ویب ڈیسک) — بھارت نے پاکستان کو دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے سے متعلق پیشگی اطلاع دی ہے جس کے بعد وزارتِ آبی وسائل نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے 27 متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو خبردار کر دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے وزارتِ خارجہ سے رابطہ کرکے بتایا کہ دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس اطلاع کے بعد پاکستانی حکام نے نشیبی علاقوں میں حفاظتی انتظامات تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
ادھر وزارتِ آبی وسائل نے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے بعد شدید طغیانی کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے تمام اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔









