نئی دہلی (نیوز ڈیسک)بھارتی دارالحکومت دہلی کی ایک عدالت نے دسمبر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں پرتشدد واقعات سے متعلق کیس میں شرجیل امام، صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، اور 8 دیگر طلبہ کو بری کر دیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق شرجیل امام انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین کے تحت درج ایک اور کیس میں زیرحراست رہیں گے جس میں وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طالب علم رہنما عمر خالد کے ساتھ نامزد ہیں۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ دہلی پولیس حقیقی مجرموں کو پکڑنے میں ناکام رہی اس لیے 11 طلبہ کو قربانی کا بکرا بنادیا گیااس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ملزمان تشدد میں ملوث ہجوم کا حصہ تھے، نہ ہی ان کے پاس کوئی ہتھیار تھا اور نہ ہی وہ پتھر پھینک رہے تھے۔
ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں شہری ترمیمی ایکٹ اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے خلاف مظاہروں کے دوران فسادات اور غیر قانونی اجتماع کا الزام عائد کیا گیا تھا۔جج نے کہا کہ اختلاف رائے اور کچھ نہیں بلکہ بھارت کے آئین کے آرٹیکل 19 میں درج اختلاف رائے اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کی توسیع ہے، اس لیے یہ ایک حق ہے جس کو برقرار رکھنے کا ہم نے حلف اٹھایا ہے۔ایڈیشنل سیشن جج ارول ورما نے اس کیس کی سماعت کی جس میں دہلی پولیس نے جامعہ تشدد کیس میں 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔عدالت نے کہا کہ تفتیشی ایجنسیوں کو اختلاف رائے اور بغاوت کے درمیان فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
عدالت نے محمد الیاس کے سِوا محمد قاسم، محمود انور، شہزار رضا خان، ابوذر، شعیب، عمیر احمد، بلال ندیم، شرجیل امام، آصف اقبال تنہا، چندا یادیو اور صفورا زرگر سمیت کسی میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا۔عدالت نے کہا کہ محمد الیاس کے خلاف الزامات طے کیے کیونکہ ایک اخبار میں ان کی جلتے ہوئے ٹائر پھینکنے کی تصاویر واضح طور پر دیکھی گئی تھیں۔









