نئی دہلی(انٹرنیشنل نیوز)مودی کے آمرانہ نظام حکومت کیخلاف بھارتی نوجوان تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔بھارتی پولیس کی طلبا کے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کو آنسو گیس شیلنگ اور بدترین لاٹھی چارج سے روکنے کی ناکام کوششیں جاری ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارہ کے مطابق نوجوان تحریک سی جے پی کی قیادت میں طلبا، والدین سیاسی و سماجی کارکنان نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کیلئے بھارتی پارلیمنٹ کا رخ کر لیا، سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو زبردستی ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد بھارتی طلبہ نے احتجاج اعلان کیا۔
پرامن احتجاج کے باوجود بھارتی پولیس کی غنڈہ گردی کے بعد سی جے پی نے نااہل وزیر اعظم مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا۔کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے کا کہنا تھا کہ پولیس کی وردی میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے سونم وانگچک کو جبری گرفتار کر کے انتہائی بزدل حرکت کی ہے، حکومت کی قابلِ مذمت کارروائی کے بعد ہم اب وزیر تعلیم کیساتھ مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق میڈیکل داخلہ امتحان کے پیپر لیک کے باعث تقریبا 22 لاکھ 80 ہزار متاثرین اور 20 سے زائد طلبا کی خودکشی نے نوجوان نسل کو احتجاج پر مجبور کیا، بھارت میں تعلیمی نظام کی نااہلی، پیپر لیک سکینڈل اور طلبہ کی خودکشیوں نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔