محسن رضائی

ایران آبنائے ہرمز میں کسی دوسرے راستے کی اجازت نہیں دے گا،محسن رضائی

تہران(انٹرنیشنل نیوز)ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کے سینیئر مشیر میجر جنرل محسن رضائی نے واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی دوسرے راستے کی اجازت نہیں دے گا،محسن رضائی نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے یوکرین میں تین مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی، تاہم کیف کی جانب سے مبینہ معذرت کے بعد یہ کارروائی منسوخ کر دی گئی۔

ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق مشیرسپریم لیڈر جنرل محسن رضائی نے اپنے بیان میں امریکا کو خبر دار کیا ہے کہ جنگی جہاز یا فوج لائی گئی تو اسے بھی نشانہ بنائیں گے، لیکن آبنائے ہرمز میں کسی دوسرے راستے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بہت سے جہاز ایران کی وارننگ پر واپس مڑ رہے ہیں، امریکا کا حکم ماننے والے جہاز نقصان اٹھاتے ہیں اور پھر خود ہی مڑ جاتے ہیں۔محسن رضائی نے کہا کہ ایران اپنے موقف پر قائم ہے کہ ہرمز امریکا کی شرائط پر دوبارہ نہیں کھلے گی۔انہوں نے مزید دعوی کیا کہ حالیہ 17 روزہ ایران۔

امریکا کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی فوجی منصوبوں کو ناکام بنایا اور امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا۔ تاہم ان دعوﺅں کے حق میں کوئی آزاد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ علاوہ ازیں محسن رضائی نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے یوکرین میں تین مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی، تاہم کیف کی جانب سے مبینہ معذرت کے بعد یہ کارروائی منسوخ کر دی گئی۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مجوزہ حملوں کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، لیکن بعد میں آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد ایران نے فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم انہوں نے اس مبینہ معذرت کی نوعیت یا اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں