نیوز روم /امجد عثمانی
لاہور پریس کلب کے سابق صدر اور لندن میں مقیم سنئیر صحافی جناب ثقلین امام لکھتے ہیں کہ 13 مئی 1978 کو لاہور کی ایک فوجی عدالت نے گیارہ صحافیوں کو سزائیں سنائی تھیں۔۔۔۔۔۔ یہ صحافی ملک گیر آزادئِ صحافت کی تحریک کے دوران جیل بھرو تحریک کا حصہ تھے۔۔۔۔۔۔
ان صحافیوں میں ایک مسعود اللہ خان تھا۔۔۔۔۔۔ وہ عدالت میں گرجتا رہا اور اپنی زور دار آواز سے عدالت کی صدارت کرنے والے فوجی افسر کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا کہ فوج کو صحافیوں اور شہریوں پر مقدمہ چلانے کا کوئی حق نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوجی افسر کو غصہ آگیا اور برصغیر کی تاریخ میں پہلی بار چار صحافیوں مسعود اللہ خان، اقبال جعفری، خاور نعیم ہاشمی اور ناصر زیدی کو قید کے علاوہ دس دس کوڑوں کی سزا بھی سنائی گئی لیکن لاہور جیل کے ایک ڈاکٹر نے جرات کا مظاہرہ کیا اور جسمانی معذوری کی وجہ سے مسعود اللہ خان پر کوڑے لگانی کی اجازت دینے سے انکار کردیا تاہم جیل حکام نے خاور، ناصر اور اقبال کو جیل کے قیدیوں کے سامنے کوڑے مارے۔ ان سب نے اپنی جیل میں قید کی سزائیں مکمل کیں۔
مسعود اللہ خان صاحب لاہور پریس کلب جاتے تھے اور کبھی ہم ڈان لاہور میں ان کے دفتر جایا کرتے تھے۔۔۔۔۔ ان کے پاس نوجوان صحافیوں کو بتانے کے لیے بہت کچھ تھا۔۔۔۔۔۔۔ایماندار، دیانت دار اور باخبر صحافی مسعود اللہ خان نے کبھی جابر حکمرانوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ آزادی صحافت اور مزدوروں کے حقوق کے عظیم چیمپئن تھے۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ وہ پیشہ ورانہ طور پر بے عیب تھے۔ انھیں سرخیاں بنانے کے فن پر عبور حاصل تھا، جو کسی بھی خبر کے متن کا ایک چہرہ ہوتا ہے۔ ان کے دوستوں نے اس کی قابلیت کی تعریف کی۔ انہوں نے بہت سے نوجوان صحافیوں کی اتنی اچھی تربیت کی کہ وہ بعد میں اپنی صحافت میں ان جیسے قابل صحافی بنے۔۔۔۔۔
ان کے نمایاں جونیئرز میں اشر رحمان، ناصر جمال، عارف شمیم، عطا المصور، اسد علی، ساجد اقبال، احمد فراز اور ڈان لاہور کے دفتر کے بہت سے دوسرے ساتھی بھی ہیں جنہوں نے صحافت میں بڑا نام پیدا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔









