نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے ریلائنس انڈسٹریز کے سربراہ مکیش امبانی کے بیٹے اننت امبانی کے زیرِ انتظام قائم بڑے ذاتی چڑیا گھر "ونتارا” میں غیر قانونی جانوروں کی درآمد اور ممکنہ مالی بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
گجرات میں قائم یہ چڑیا گھر دنیا کے سب سے بڑے "وائلڈ لائف ریسکیو اینڈ کنزرویشن پراجیکٹ” کے طور پر مشہور کیا گیا تھا، لیکن رپورٹس کے مطابق یہاں تقریباً 200 ہاتھی، 900 مگرمچھ، اور سینکڑوں بڑے جنگلی جانور جیسے شیر، تیندوے اور ریچھ رکھے گئے ہیں۔
ماہرین جنگلی حیات نے اس اقدام پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ قدرتی ماحول کے تحفظ کے بجائے قید و بند کی علامت ہے، کیونکہ ان جانوروں کو دوبارہ فطری مسکن میں چھوڑنے کا کوئی طریقہ کار سامنے نہیں آیا۔
سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے، جو یہ جانچ کرے گی کہ ان جانوروں کو کس طرح حاصل کیا گیا، جنگلی حیات کے قوانین کی کس حد تک خلاف ورزی ہوئی اور آیا اس میں منی لانڈرنگ کا عنصر شامل ہے یا نہیں۔









