• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home چائنہ کی خبریں
عالمی میڈ یا

امریکہ میں نسلی مساوات کا خواب بدستور ایک خواب ہے ، عالمی میڈ یا

News Editor by News Editor
اگست 31, 2023
in چائنہ کی خبریں
0 0
0

جو ہا نسبر گ(نمائندہ خصوصی)امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر جیکسن ویل میں نسلی منافرت پر مبنی فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا اور ایک سفید فام شخص نے تین سیاہ فام افریقی نژاد امریکیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

اسی دن، ہزاروں لوگوں نے واشنگٹن کے لنکن میموریل میں نسلی گروہوں کے درمیان مساوی حقوق کے لئے 60 سالہ جدوجہد کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔جمعرات کے روز عالمی میڈ یا کی ایک رپورٹ کے مطا بق 28 اگست 1963 کو افریقی نژاد امریکی شہری اور مساوی حقوق کی تحریک کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے سیاہ فاموں کے مساوی شہری حقوق کے حصول کے لیے مظاہرے میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد کے سامنے مشہور تقریر "میرے پاس ایک خواب ہے” کی ،

جو امریکہ میں نسلی امتیاز کی مخالفت اور مساوی حقوق کی جدو جہد کا کلاسیکی نعرہ بن گئی ۔تاہم اس تقریر کے ساٹھ سال بعد بھی سفید فام کی فائرنگ سے سیاہ فام افراد کی ہلاکت کے واقعات نہ رکے اور ایک اور تازہ واقعے میں 3 سیاہ فام افراد ہلاک ہوئے۔ یعنی ایک بار پھر لوگوں کو یاد دلایا گیا کہ اس حوالے سے 60 سال پہلے جو "خواب” بتایا گیا اسے ابھی پورا ہونے میں کافی وقت ہے۔امریکہ میں نسلی مساوات کا خواب بدستور ایک خواب ہے اور اقلیتوں کے خلاف نسلی امتیاز اور گن وائلنس جیسے مسائل اب بھی امریکی معاشرے میں نہ صرف آئے روز پیش آتے ہیں بلکہ ان میں شدت بھی دیکھی جا رہی ہے ۔

شاید مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد امریکہ میں افریقی نژاد افراد اب بھی اپنے حقوق کی جدو جہد میں مر رہے ہوں گے ۔ 26 تاریخ کو منعقدہ تقریب میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی پوتی یولینڈا رینی کنگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر میں آج اپنے دادا سے کچھ کہہ سکتی تو یہ کہتی کہ مجھے افسوس ہے کہ ہمیں آج بھی آپ کے خواب کی تکمیل کے لیے بھر پور کوشش کر نی ہے ۔ آج بھی نسل پرستی موجود ہے اور غربت برقرار ہے۔

اس تحریک کے آغاز کے 60 سال بعد بھی ، آج امریکہ میں آمدنی، تعلیم، رہائش، صحت کی دیکھ بھال اور دیگر پہلوؤں کے لحاظ سے اقلیتوں اور سفید فاموں کے درمیان نسلی فرق بدستور بہت واضح ہے.

8اگست 2022 کو ہیومن رائٹس واچ اور امریکن سول لبرٹیز یونین نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ امریکہ میں نسلی امتیاز عام ہے۔جائیداد کے حقوق کے معاملے میں، سیاہ فام امریکیوں کو اب بھی نقصان ہو رہا ہے . ایک اندازے کے مطابق سیاہ فام گھرانوں کی دولت میں اضافے کی موجودہ شرح کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سفید فام گھرانوں جتنی دولت حاصل کرنے میں انہیں 230 سال لگیں گے۔ امریکہ میں غربت میں زندگی گزارنے والے افراد میں سیاہ فام افراد کا تناسب تقریبا 21 فیصد ہے جبکہ غریب سفید فام 8.8 فیصد ہیں ۔یعنی اس حوالے سے سیاہ فام افراد کی تعداد سفید فام افراد سے دوگنی ہے ۔

اچھی زندگی اور صحت کے نقطہ نظر سے ، امریکی سینٹرفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی طرف سے دسمبر 2022 میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں افریقی نژاد امریکیوں اور مقامی امریکیوں کی اموات کی شرح سفید فام امریکیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ سنہ 2021 میں سفید فام امریکیوں کی اوسط عمر 76.4 سال تھی جبکہ افریقی نژاد امریکیوں کی اوسط عمر 70.8 سال اور مقامی امریکیوں کی اوسط عمر 65.2 سال تھی۔ صرف نوول کورونا وائرس کی وبا کے دوران افریقی نژاد امریکیوں، لاطینی امریکیوں اور مقامی لوگوں کی اموات کی شرح سفید فاموں کے مقابلے میں تقریبا تین گنا زیادہ تھی۔

تعلیم کے حق کے نقطہ نظر سے ، اقلیتی اسکولوں کی مالی اعانت کم ہے اور ریاست اقلیتی طلباء کو مناسب تعلیمی مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہے ۔ امریکی محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ہر سال ہائی اسکول گریجویٹس میں افریقی نژاد امریکیوں کی تعداد تقریبا 15 فیصد ہے جبکہ پرنسٹن یونیورسٹی اور کارنیل یونیورسٹی جیسی آئیوی لیگ یونیورسٹیوں میں نئے طلبا ء صرف 8 فیصد افریقی نژاد امریکی ہیں،اور صرف ایک تہائی افریقی نژاد طلباء کالج سے گریجویٹ ہوتے ہیں ۔ اس حوالے سے تعلیمی قرضے اور خراب مالی حالات ان کے اسکول چھوڑنے کی اہم وجوہات ہیں۔

اس وقت امریکہ میں افریقی نژاد امریکی اور دیگر اقلیتیں، معاشرے کی تمام سطحوں پر انتظامی اعتبار سے شدید امتیاز کا شکار ہیں۔ امریکہ کے غیر مساوی سیاسی، معاشی اور سماجی نظام نیز حکمرانی کے ماحول نے افریقی نژاد امریکیوں جیسی اقلیتوں کے ساتھ امریکہ میں مساوی سلوک ناممکن بنا دیا ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا "تمام افراد کے برابر ہونے” کا خواب ، امریکی معاشرے میں نسلی امتیاز کے سامنے اب بھی ایک خواب دکھتا ہے جس کی تعبیر  بہت دور ہے ۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: امریکہعالمی میڈ یامالی حالاتنسلی مساوات
Previous Post

دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا ہے، جلیل عباس جیلانی

Next Post

چینی ثقافت کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدر

News Editor

News Editor

Next Post
چینی صدر

چینی ثقافت کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading