واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز )ڈیموکریٹس نے امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6 سال کے ٹیکس گوشوارے جاری کردئیے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹ کے زیرِ کنٹرول امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سنہ 2015 سے سنہ 2020 کے دوران مکمل ٹیکس گوشوارے جاری کردیے ۔خیال رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ کے قانون سازوں کے درمیان طویل عرصے سے ٹیکس گوشوارے جاری کرنے کے حوالے سے لڑائی جاری تھی جس کے بعد گزشتہ ماہ امریکی سپریم کورٹ نے کمیٹی کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے یہ تنازع ختم کیا تھا۔کمیٹی کی جانب سے جاری تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے کروڑوں ڈالر بزنس ہونے کے باوجود سنہ 2020 میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔
کمیٹی کی جانب سے سابق صدر کے 6 ہزار صفحات پر مشتمل ریکارڈ اور 2 ہزار 700 سے زائد صفحات پر مشتمل ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلینا ٹرمپ کیذاتی ٹیکس تفصیلات کے علاوہ 3 ہزار صفحات کے کاروباری تفصیلات شامل ہیں۔ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی دور کے دوران سنہ 2015 سے سنہ 2020 تک ٹرمپ کی آمدنی اور واجب الادا ٹیکس میں کافی اتار چڑھا دیکھا گیا۔اس کے علاوہ ریکارڈ میں ٹرمپ اور ان کی اہلیہ نے ٹیکس کٹوتیاں حاصل کیں اور نقصانات کا دعوی کیا ہے جبکہ انہوں نے ان سالوں کے دوران بہت کم یا کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔
کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ نیل نے سنہ 2019 میں ٹرمپ سے ٹیکس گوشوارے جاری کرنے کی درخواست کی تھی انہوں نے اس وقت دلائل دیے تھے کہ کانگریس کو اس پر تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا امریکی صدر پر ٹیکس ریٹرن ظاہر کرنے کے حوالے سے قانونی سازی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ٹرمپ کے ٹیکس گوشوارے حاصل کرنیکے بعد ڈیموکریٹس کے پاس بہت کم وقت ہے کہ وہ ان ریکارڈ کی جانچ پڑتال کر سکیں کیونکہ ری پبلکن نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں معمولی فرق سے جیتنے کے بعد 3 جنوری 2023 کو ایوان کا انتظام سنھبال لیں گے۔خیال رہے کہ ایوان نے ایک بل منظور کیا تھا جو انٹرنل ریوینیو سروس کو 90 دنوں کے اندر امریکی صدور کے ٹیکس ادا کرنے کا آڈٹ مکمل کرنے کا پابند بنائے گا۔









