مودی سرکار

امتحانی فراڈ میں ملوث افراد کو سخت سزا ملے گی، کاکروچ پارٹی کے احتجاج پر نریندر مودی کا پہلا بیان

نئی دہلی (انٹرنیشنل نیوز) بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس امتحانی فراڈ میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔فرانسیسی خبر رساں دارے کے مطابق یہ بھارتی وزیراعظم کا امتحانی فراڈ کے حوالے سے پہلا براہ راست بیان ہے جو احتجاج کی اس لہر کے کئی روز بعد سامنے آیا ہے جس نے انڈین حکومت کو چیلنج کر رکھا ہے۔

نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں لکھا کہ ہمارے نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل سب سے زیادہ اہم ہے۔انہوں نے پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے میں ملوث افراد کو سزا دینے کےلئے فاسٹ ٹریک کورٹس قائم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ان کا کہناہے کہ جو عناصر ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے بھارت میں کچھ روز سے نوجوانوں کے احتجاج کی شدید لہر جاری ہے جس کی قیادت کاکروچ جتنا پارٹی کر رہی ہے۔اس کی جانب سے وزیرتعلیم کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاہم حکومت کی جانب سے سختی اختیار کیے جانے کے بعد اس میں وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل ہو چکا ہے۔پارٹی کے کارکنوں نے پیر کو پارلیمان کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بڑی تعداد میں اس کے حامی جنتر منتر پر ہوئے اور پارلیمان کی طرف جانے کی کوشش میں پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں کئی طلبہ زخمی بھی ہوئے۔

تاہم اس کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہو سکا اور جنتر منتر کے مقام پر ابھی ہزاروں کی تعداد میں کے جے پی کے کارکن اور ان کے حامی موجود ہیں۔ مودی حکومت کیخلاف دہلی کے بعد احتجاجی مظاہرے تمام بھارتی ریاستوں تک پھیل گئے، نوجوان تاحال سڑکوں پر موجود ہیں۔تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیکس پر کاکروچ جنتا پارٹی کا بھارتی حکومت سے احتساب کا مطالبہ زور پکڑ گیا، بھارتی سکیورٹی فورسز کے بدترین تشدد کے باوجود نوجوانوں نے نریندر مودی، امت شاہ اور دھرمندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائرل ویڈیوز کے مطابق نوجوان کیرالہ، اروناچل پردیش، تمل ناڈو،گوا، گجرات، بہار، مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں سڑکوں پر موجود ہیں۔عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق بھارتی نوجوانوں کی حمایت پر بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو بھی پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا۔اپوزیشن رہنما کی گرفتاری کیخلاف اور طلبا کے حق میں مختلف بھارتی سیاسی جماعتوں نے بھی بھرپور احتجاج کیا۔اسی طرح دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے علاوہ شوبز اور دوسرے میدانوں کی نمایاں شخصیات بھی اس احتجاج کی سپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں