• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
پیر, 2 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home انٹرنیشنل
آزادی صحافت

آزادی صحافت کے انڈیکس میں بھارت افغانستان اور لیبیا سے پیچھے

News Editor by News Editor
مئی 7, 2023
in انٹرنیشنل
0 0
0

دبئی(انٹرنیشنل نیوز)پریس کی آزادی کا خیال رکھنے والی تنظیم "رپورٹرز ودآٹ بارڈرز” کے ذریعہ شائع ہونے والے سالانہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان 11 درجے نیچے گر گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس انڈیا میں میڈیا کی کثرت کے خاتمے کا مشاہدہ کیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سالانہ انڈیکس رپورٹ میں پاکستان 150 ویں نمبر پر ہے۔ افغانستان کا نمبر 152 واں ہے۔ 180 ملکوں کی اس فہرست میں بھارت کا نمبر 161 آیا ہے۔رپورٹ کے خلاصے میں بھارت اور کچھ دوسرے ملکوں کا حوالہ دیا گیا جہاں آزادی صحافت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صورتحال تین دیگر ملکوں میں پریس کی آزادی ایک مسئلہ سے انتہائی خراب سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ان تین ملکوں میں تاجکستان ایک مقام نیچے گر کر 153 ویں نمبر پر آگیا۔

بھارت 11 درجے تنزلی کے بعد 161 ویں نمبر پر چلا گیا۔ ترکی 16 درجے نیچے گرگی اور 165 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔رپورٹرز ودآئوٹ بارڈرز نے رپورٹ کے انڈیا سیکشن میں کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نریندر مودی کی قیادت میں آزادی صحافت کے بحران کا شکار ہے۔ مودی 2014 سے ملک کی صدارت کر رہے ہیں اور اگلے سال مسلسل تیسری مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے خواہاں ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ میڈیا کے خلاف تشدد کو استعمال کیا جاتا ہے۔ مودی کی پارٹی کی قیادت میں بھارت میں میڈیا کی آزادی بحران سے دوچار ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2000 کی دہائی کے وسط میں جب مودی پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تو بھارت 2013 کے آزادی صحافی کے انڈیکس میں 140 ویں نمبر پر تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کی اہم مثال بلاشبہ مکیش امبانی کی قیادت میں ریلائنس انڈسٹریز گروپ ہے جو آج مودی کے ذاتی دوست بن چکے ہیں اور جو 70 سے زیادہ میڈیا آٹ لیٹس کے مالک ہیں اور کم از کم 800 ملین ہندوستانی ان کے میڈیا آوٹ لیٹس سے جڑتے ہیں۔ گوتم اڈانی بھی این ڈی ٹی وی کے حوالے سے مودی کے قریب ہیں۔ ان مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے کہ بھارت میں میڈیا میں تکثیریت کا خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔

حالیہ برسوں میں بھارتی حکام پر آزاد میڈیا کی آوازوں اور حکومت پر تنقید کرنے والی تنظیموں کو دبانے کا الزام لگایا گیا ہے۔وفاقی ٹیکس حکام نے دی وائر اور نیوز کلک جیسی مقامی خبر رساں تنظیموں کے ساتھ ساتھ آکسفیم انڈیا اور سینٹر فار پالیسی ریسرچ (سی پی آر)جیسی غیر منافع بخش تنظیموں پر بھی چھاپے مارے ہیں۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے لکھا ہے کہ یہ وقت ہے کہ ہمارا سر شرم سے جھک جائے۔ ہندوستان عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں پیچھے ہوگیا اور 180 ملکوں میں 161 ویں نمبر پر آگیا ہے۔حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے نائب صدر بیجینت پانڈا نے کہا کہ انڈیکس میں نئی درجہ بندی مضحکہ خیز ہے اور اس میں بھارت مخالف تعصب برتا گیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں استفسار کیا۔ کیا واقعی؟ ہم رینکنگ میں لیبیا اور افغانستان سے پیچھے ہیں؟

ویمن پریس اتھارٹی آف انڈیا، پریس کلب آف انڈیا اور پریس ایسوسی ایشن نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں بھی ملک میں آزادی صحافت کی سمت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ترنمول کانگریس پارٹی کی ایم پی مہوا موئترا نے لکھا ہے کہ جب آپ کو گڈی میڈیا مل سکتا ہے تو کس کو پریس کی آزادی کی ضرورت ہے۔ایک متعلقہ سیاق و سباق میں رپورٹرز ودآئوٹ بارڈرز کے ایشیا اور پیسیفک بیورو کے سربراہ ڈینیل باسٹرڈ نے نیوز لانڈری کو بتایا کہ ملک کی درجہ بندی کا تعین کرنے میں صرف گورننس کی شکل ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹرز ودآٹ بارڈرز کی درجہ بندی سیاسی نظام کا فیصلہ نہیں کرتی بلکہ 180 ممالک یا ریاستوں کی صورت حال کا جائزہ لیتی ہے۔ درجہ بندی پانچ اشاریوں کے تجزیے پر مبنی ہے۔ ان پانچ اشاریوں میں سیاسی تناظر، عدالتی فریم ورک، اقتصادی تناظر، سماجی و ثقافتی تناظر، اور سلامتی کا تناظر شامل ہیں۔ اس جائزہ میں کل 117 سوالات اور ذیلی سوالات رکھے گئے ہیں۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: آزادی صحافتانٹرنیشنل نیوز
Previous Post

ترکیہ کا خرطوم سے اپناسفارت خانہ پورٹ سوڈان منتقل کرنے کا اعلان

Next Post

سعودیہ ایران تعلقات کی بحالی سے خطے کی مساوات بدل جائے گی،ابراہیم رئیسی

News Editor

News Editor

Next Post
ابراہیم رئیسی

سعودیہ ایران تعلقات کی بحالی سے خطے کی مساوات بدل جائے گی،ابراہیم رئیسی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

571
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading