اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق صدر مملکت عارف علوی کے بیان پر سیاستدانوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت عارف علوی کھل کر بات کریں ،
اخلاقیات کا تقاضا ہے صدر مستعفی ہوں۔صدر مملکت کے بیان پر مسلم لیگ (ن )کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ صدر علوی کھل کر بات کریں، اگر بلوں سے اختلاف تھا تو انہوں نے کیوں اپنے اعتراضات درج نہ کیے؟ ہاں یا ناں کے بغیربل واپس بھیجنے کا کیا مقصد تھا؟ ۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ میڈیا پر خبریں آنے کے باوجود وہ2 دن کیوں چپ رہے؟صدرمملکت بولے بھی تو معاملہ اور الجھا دیا، اگر ان کا اسٹاف بھی ان کے بس میں نہیں تو مستعفی ہوکر گھر چلے جائیں۔سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ بات ناقابل یقین ہے، اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ صدر مستعفی ہوں۔انھوں نے کہا کہ آئین کے مطابق زبانی حکم کو حکم تصور نہیں کیا جاتا، اگر 10 روز میں صدر اعتراضات کے ساتھ بل واپس نہیں بھیجتے تو یہ منظور تصور کیا جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ صدر مؤثر انداز میں دفتری کام کرنے میں ناکام رہے، اللہ ہماری مدد کرے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جس صدرکو نہیں پتہ کہ ایوان صدر میں کیا ہو رہاہے وہ عہدے پر رہنے کا اہل ہی نہیں، صدر بیان دینے، معافی مانگنے کے بجائے بتائیں ان افسروں کیخلاف کیاکارروائی کی۔سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے صدر مملکت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ناک کے نیچے بلز پرکوئی اور دستخط کرتا ہے؟ صدر کی وضاحت ان کے صدارتی منصب سنبھالنے کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے، اگر ایسا ہی ہے تو صدرکو اس عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے، اگر آپ کا عملہ آپ کے کہنے میں نہیں تو آپ صدارتی منصب چھوڑ دیں۔
انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں وہ صدر ہاؤس کو آرڈیننس فیکٹری کے طور پر چلاتے رہے،کیا اس وقت بھی آرڈیننسز پر کوئی اور دستخط کر کے واپس کیا کرتا تھا؟صدر عارف علوی اپنے وضاحتی بیان کے بعد صدارت کے آئینی عہدے پر رہنے کے اہل نہیں رہے۔جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ایکس پر جاری پیغام میں لکھا کہ یہ تو ایک نیا پنڈورابکس کھل گیاہے، اگر صورت حال واقعی ایسی ہی ہے جیسا کہ صدر نے لکھا ہے تو یہ ریاست پاکستان، پارلیمنٹ اور قانون سازی کے ساتھ ساتھ 24کروڑ پاکستانیوں کی توہین ہے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ معاملات ایک دفعہ پھر عدالتوں میں جائیں گے، ملک کے اعلیٰ ترین منصب کے اس حال سے پاکستان کے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتاہے، اللہ پاکستان پر رحم فرمائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے اس پیشرفت کو انتہائی افسوسناک اور پورے نظام کے خاتمے کے مترادف قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی وکلا برادری کو اب آئین کی بالادستی کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔









