لاہور( کامرس ڈیسک)آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ آئندہ ماہ پالیسی ریٹ میں مزید ایک فیصد اضافے کی باز گشت ہے جس سے نجی شعبے کو مزید مشکلات اورسست روی کا سامنا کرناپڑے گا،
آئی ایف کی کڑی شرائط ہماری معیشت کا گلہ گھونٹ رہی ہیں اس لئے سیاستدانوں کو متفقہ پالیسی بنانے کے لئے ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔ اپنے بیان میں اشرف بھٹی نے کہا کہ ملک کا مجموعی قرض 54 کھرب 94 ارب سے تجاوز کر چکا ہے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ پہاڑ کی طرح کھڑے قرض کو اتارنے کیلئے کوئی پالیسی مرتب نہیں کی گئی ۔ اگر اس قرض کو اتارنے کے لئے آج سے پیشرفت شروع نہ کی گئی تو ہماری آنے والی نسلیں بھی ایسے ہی مقروض اور عالمی مالیاتی اداروں کے زیر عتاب رہیں گی ۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش معیشت کیلئے زہر قاتل ہے ،
مہنگائی کی بے قابو ہوتی شرح نے کاروبار کو غیر مستحکم کرکے ایک جگہ پر منجمدکردیا ہے جو معیشت کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو تحمل وبرداشت کامظاہرہ کرناچاہیے اورسیاسی لڑائی کو اس حد تک نہ لے جایا جائے جس کے ملک پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ ملک میں جاری سیاسی کشمکش کی وجہ سے ہر طبقہ اضطراب میں مبتلاہے او ریہ کیفیت معیشت کیلئے زہرقاتل ہے۔









