نئی دہلی میں رواں سال ہونے والے کواڈ سمٹ کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت آنے کا کوئی حتمی پروگرام موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال نے مودی حکومت کی سفارتی کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
بھارتی جریدے بزنس اسٹینڈرڈ نے نیویارک ٹائمز کے حوالے سے لکھا کہ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر مودی کو ٹیلی فون پر کواڈ اجلاس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر بعد میں ان کا دورہ ملتوی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے برعکس آسٹریلیا اور جاپان کے وزرائے اعظم کی شرکت متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور مودی کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب امریکی صدر نے بار بار پاک بھارت جنگ بندی کے دعوے کیے، جنہیں بھارت نے سختی سے رد کیا۔ اسی تناظر میں امریکا نے بھارت پر اضافی ٹیرف عائد کیے اور روس سے بھارت کی توانائی کی خریداری پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، اگر امریکی صدر کواڈ سمٹ میں شریک نہ ہوئے تو یہ نہ صرف بھارت کے عالمی کردار کے لیے ایک دھچکا ہوگا بلکہ سرمایہ کاروں اور عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرے گا۔









