کراچی(نمائندہ خصوصی ) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات اور نتائج سے متعلق معاملات اتفاق رائے ہی سے ٹھیک ہوں گے۔
ائرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگوں نے جماعت اسلامی کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے۔ حلقہ بندیاں اور آر او سے جو کچھ کیا گیا، اس کے باوجود پولنگ ختم ہونے کے بعد بھی جماعت اسلامی نمبر ون ہے۔ اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید بھی ان کے ہمراہ تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمیں جتنا مینڈیٹ ملا ہے، اس کا تحفظ کریں گے۔ ہم نے الیکشن کمیشن میں بھی اپنے تحفظات بھجوا دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ترقی کرتا ہے تو سندھ ترقی کرتا ہے، پاکستان بھی ترقی کرے گا۔ میئر کراچی جماعت اسلامی ہی کا بنے گا، ہم حالات کے مطابق کام کریں گے۔ جماعت اسلامی ہمیشہ کراچی شہر کی ضامن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہمیں مینڈیٹ ملا ہے۔ ری کاونٹنگ ہو رہی ہے اور ہم بھی کہتے ہیں کہ ری کانٹنگ کروائیں۔ جن سیٹوں پر تنازع ہے وہ الیکشن کمیشن نے لے لیا ہے۔ ابھی یہ پہلا مرحلہ نہیں ہے کہ کس کے ساتھ چلا جائے، اس سے پہلے ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے۔ دوسرے مرحلے میں اتفاق رائے پیدا کریں۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کراچی کے اسٹیک ہولڈر اتفاق کے رائے سے جماعت اسلامءکا مئیر بنے گا تو کراچی ترقی کرے گا۔ اس وقت سیاست سے زیادہ اہل کراچی کا حال سب کے سامنے ہے۔
تمام اختلافات کے باوجود کراچی کی تعمیر کرنی ہے۔ ہم اب بھی بغیر اختیار کے خدمت کررہے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے فون کرکے کہا ساتھ چلنا چاہتے ہیں، ہم نے کہا کہ پہلے ہمارا مینڈیٹ تسلیم کریں۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی شکایت ہے کہ ہمارے ووٹ چوری ہوئے ہیں، جس پر 4 رکنی کمیٹی بنا دی ہے۔ 43 سیٹوں پر تحفظات ہیں، مل کر ووٹوں کی ری کانٹنگ کریں گے۔ اگر ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو کراچی مسائل کا شکار رہے گا۔ حکومت کے پاس فنڈز ہیں لیکن ہم کسی بات پر نہیں جھکیں گے۔ ہم اپنے حق کے لیے لڑیں گے۔ ابھی 10 سیٹوں پر الیکشن ہونا باقی ہے۔









