امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے چین اور دیگر ممالک سے درآمدی اشیا پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔
جمعہ کو، چین نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے اقدامات کا جواب دیتے ہوئے امریکی اشیا پر 34 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرے گا، جس کے نتیجے میں عالمی تجارتی جنگ میں مزید شدت آ رہی ہے۔ اس اعلان نے سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور عالمی کساد بازاری کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔
ٹرمپ نے چین کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین نے ایک ایسا قدم اُٹھایا ہے جو وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ امریکہ کو عالمی تجارتی جنگ میں اپنے راستے پر قائم رہنا چاہیے۔
چین نے اس دوران 11 امریکی اداروں کو "ناقابل اعتماد” کی فہرست میں شامل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ، صدر ٹرمپ کے حامی، ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے خبردار کیا کہ یہ اضافی محصولات امریکی معیشت اور ریپبلکن پارٹی کے مستقبل کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
جمعے کے روز عالمی سٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھی گئی تھی، جہاں ایس اینڈ پی 500 میں 9.08 فیصد کی کمی، نیس ڈیک میں 10.02 فیصد کی گراوٹ اور ڈاؤ جونز میں 7.86 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں بھی 1.8 فیصد کی گراوٹ آئی۔
جے پی مورگن نے پیش گوئی کی ہے کہ سال کے آخر تک عالمی معیشت میں کساد بازاری کے 60 فیصد امکانات ہیں، جو پہلے 40 فیصد تھے۔









