اقوام متحدہ

چین کی ترقی کا راستہ پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، عہد یدار اقوام متحدہ

بیجنگ (نیوز ڈیسک) شنگھائی میں نویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو جاری ہے، جہاں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے پہلی مرتبہ شرکت کی ہے۔ ادارے کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا، جس کے بعد انہوں نے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیا۔
انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی کا راستہ پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام جلد ہی شنگھائی میں عالمی پائیدار ترقی مرکز قائم کرے گا، جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس مرکز کے قیام میں ہمارا یہ وژن کارفرما ہے کہ گزشتہ 50 برسوں کے دوران دونوں فریقوں نے مشترکہ طور پر جو تجربات حاصل کیے ہیں، انہیں پوری دنیا کے ساتھ شیئر کیا جائے۔
نویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا مقصد صرف اشیا اور خدمات کو چینی منڈی میں متعارف کرانا ہے، جو یقیناً ایکسپو کا بنیادی مقصد ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ ایکسپو دیگر ممالک کو تجارت میں حصہ لینے کے لیے بھی مدد فراہم کر رہی ہے۔ چین کی جانب سے کم ترقی یافتہ ممالک اور افریقی ممالک کے لیے محصولات سے استثنیٰ کی پالیسی کھلے پن کو وسعت دینے اور تجارت کے فروغ کی ایک اچھی مثال ہے۔ اس کے مجموعی اثرات ان ممالک کو عالمی تجارت میں حصہ لینے کے لیے بہتر طور پر تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں، جو چین کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر خطوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ مختلف ممالک کو اپنی اقتصادی اور صنعتی ساخت میں تبدیلی لانے، سرمایہ کاری کے لیے موزوں ماحول پیدا کرنے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کس طرح مدد فراہم کی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں