لاہور: پنجاب حکومت نے نان ٹمبر فاریسٹ پروڈیوس (NTFP) کے شعبے کو فعال کرنے کے لیے دوبارہ پالیسی سازی پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے ذریعے دیہی علاقوں میں غربت میں کمی، خواتین کے روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کی مضبوطی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق نان ٹمبر فاریسٹ پروڈیوس سے وابستہ سرگرمیاں — جیسے مشروم سازی، ریشم سازی (سیری کلچر)، مگس بانی (بی کیپنگ) اور جڑی بوٹیوں کی کاشت — دیہی سطح پر پائیدار معاشی ماڈل فراہم کر سکتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف غربت کے خاتمے میں مددگار ہیں بلکہ پاکستان کو ہربل میڈیسن اور قدرتی کاسمیٹکس کے میدان میں خود کفیل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
قصور کے نواحی علاقے چھانگا مانگا سے تعلق رکھنے والی فاطمہ بی بی اس موقع کی مثال ہیں، جنہوں نے ریشم کے کیڑے پال کر گھر کے اخراجات پورے کیے۔ تاہم، سرکاری منصوبوں کے خاتمے سے وہ اور ہزاروں دیگر تربیت یافتہ افراد بے روزگاری کا شکار ہوگئے۔
محکمہ جنگلات پنجاب نے 2021 میں 13 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت سے ایک منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت دو ہزار افراد کو تربیت دی گئی، مگر اگلے ہی سال منصوبہ ختم کر دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس تسلسل کے ٹوٹنے سے لاکھوں ممکنہ روزگار کے مواقع ضائع ہو گئے۔
گورنمنٹ کالج لاہور کے ڈاکٹر ظفر صدیق کے مطابق پاکستان میں ایلوویرا، کلونجی، تلسی، اجوائن اور مورنگا جیسے پودوں کی کاشت کے وسیع امکانات ہیں، مگر طلب پوری کرنے کے لیے اب بھی بھارت سے درآمد پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو اگر بیج اور تربیت فراہم کی جائے تو وہ کچن گارڈننگ کے ذریعے اضافی آمدن حاصل کر سکتی ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر سیری کلچر فاروق بھٹی نے بتایا کہ موجودہ وقت میں ان کا ادارہ محدود وسائل کے باوجود ریشم سازی پر کام کر رہا ہے، جب کہ مشروم، شہد اور جڑی بوٹیوں کے منصوبے صرف تجرباتی سطح پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جاپانی شہتوت کی کاشت بھی جاری ہے جو ریشم کے ساتھ ساتھ ادویاتی اور دستکاری مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔
محکمہ جنگلات پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل اظفر ضیاء نے کہا کہ حکومت نے ساڑھے بارہ لاکھ ایکڑ جنگلات میں موجود جڑی بوٹیوں اور پودوں کا سروے مکمل کر لیا ہے تاکہ قریبی آبادیوں کو نان ٹمبر فاریسٹ پروڈیوس سے منسلک کر کے لکڑی پر انحصار کم کیا جا سکے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مستقل فنڈنگ، پالیسی کے تسلسل اور ادارہ جاتی حمایت کے ذریعے نان ٹمبر فاریسٹ پروڈیوس جیسے منصوبے خواتین، چھوٹے کسانوں اور دیہی مزدوروں کے لیے ایک پائیدار روزگار ماڈل بن سکتے ہیں۔










G555gamelogin makes it so easy to get into the game! No glitches, no fuss, just straight to playing. Mad props to the developers g555gamelogin
Been messing around on lounge7777. It’s okay, better than staring at the wall. Here’s the lowdown: lounge7777