اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے، اور اس تبدیلی کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور سفارتی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی میڈیا اور فارن پالیسی ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف پاکستان کی پوزیشن امریکا میں بہتر بنائی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ نگار ایلدار میمدوف کے مطابق پاکستان نے صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہیں۔ ٹرمپ نے کانگریس کے اجلاس میں انسداد دہشت گردی میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اسے امریکا کا اہم شراکت دار قرار دیا۔ اس دوران بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا، اور ٹرمپ کی ثالثی پر جنگ بندی ممکن ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تعلقات ایک مضبوط شراکت داری میں بدلتے جا رہے ہیں۔ واشنگٹن ٹائمز نے انہیں ’’مرد آہن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امریکا کے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی غیر سیاسی سوچ اور نظم و ضبط پر مبنی قیادت نے انہیں ٹرمپ کا قابلِ اعتماد اتحادی بنا دیا ہے۔
امریکی جریدوں کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان معاشی و عسکری معاہدے نئے دور کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ افغانستان اور ایران سے لاحق خطرات پر فیلڈ مارشل کے مؤقف اور انسداد دہشت گردی میں عملی اقدامات نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نئی ڈپلومیسی نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو ایک نئی جہت دی ہے۔









