اسلام آباد(آن لائن ) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگآبزر (Ms. Bolormaa Amgaabazar) کی قیادت میں وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، مالیاتی وفاقیت اور وفاق و صوبوں کے درمیان مالیاتی تعاون سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی بینک کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور ملکی سماجی و معاشی ترقی میں ادارے کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی سفر میں عالمی بینک کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر بھرپور عملدرآمد کر رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا آئینی وفاقی ڈھانچہ، صوبائی خودمختاری اور وفاق و صوبوں کے درمیان باہمی تعاون و مشاورت ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔اس موقع پر عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے **”پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے”** (Strengthening Fiscal Federalism in Pakistan) کے عنوان سے رپورٹ پیش کی اور اس کے اہم نکات پر بریفنگ دی۔ وفد نے اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے بعد مالیاتی وفاقیت کے ارتقائ ، محصولات، اخراجات، وفاقی و صوبائی مالیاتی تعلقات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی وسائل کے موثر استعمال سے متعلق اپنے تجزیے اور مشاہدات سے آگاہ کیا۔
رپورٹ میں مالیاتی نظم و ضبط، وسائل کے بہتر استعمال، عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مو¿ثر تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف پالیسی سفارشات بھی پیش کی گئیں۔وزیراعظم نے عالمی بینک کے تجزیے اور بین الاقوامی تجربات کی روشنی میں پیش کیے گئے تقابلی جائزے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے مطالعات پالیسی سازی کے عمل میں مفید رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی، جو متعلقہ فریقین، خصوصاً صوبوں سے مشاورت کے بعد پاکستان کے آئینی اور وفاقی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے گی۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرائ احد خان چیمہ اور احسن اقبال، مشیر وزیراعظم ڈاکٹر سید توقیر شاہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی شریک تھے۔