دنیا کے خطرناک ترین پہاڑوں میں شمار ہونے والے نانگا پربت پر ایک تاریخی کارنامہ اُس وقت رقم ہوا جب جرمن کوہ پیما ڈیوڈ گوٹلر نے چوٹی سر کرنے کے بعد پیراگلائیڈنگ کے ذریعے واپسی کی۔ انہوں نے 7,700 میٹر کی بلندی سے پرواز بھری اور محض 30 منٹ میں بیس کیمپ تک پہنچ گئے، جو ایڈونچر کی دنیا میں ایک یادگار لمحہ بن گیا۔
ڈیوڈ گوٹلر کے اس جرأت مندانہ مشن کے ساتھ فرانسیسی کوہ پیما جوڑی، ٹفین ڈوپیئر اور بورس لینگن شٹائن نے بھی ایک نیا باب رقم کیا۔ انہوں نے نانگا پربت کی مشکل اور کم رسائی والی رُوپال فیس سے پہلی بار اسکیئنگ کے ذریعے نیچے اترنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ دونوں نے 7,625 میٹر کی بلندی پر ایک رات گزارنے کے بعد تین دن میں بیس کیمپ تک کا سفر مکمل کیا۔
ایڈونچر ٹورز پاکستان کے سی ای او نیک نام کریم کے مطابق یہ مہم 21 سے 24 جون کے دوران شیل روٹ سے سرانجام دی گئی۔ انہوں نے اسے نہ صرف نانگا پربت بلکہ پاکستان میں کوہ پیمائی اور ایڈونچر ٹورزم کی تاریخ کا اہم موڑ قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر ماؤنٹین انسٹرکٹر مائیکل بیک نے گوٹلر کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ نانگا پربت کو ’الپائن اسٹائل‘ میں سر کرنے کے بعد پیراگلائیڈنگ کے ذریعے واپسی ایک ناقابلِ یقین کارنامہ ہے۔
نانگا پربت، جسے ’قاتل پہاڑ‘ بھی کہا جاتا ہے، پر یہ کامیاب اور منفرد واپسی کوہ پیمائی کے شائقین کے لیے نہ صرف حیران کن بلکہ متاثر کن بھی ہے۔









