لاہور( نیوز رپورٹر)ٹیکس ایجوکیشن اینڈ لرننگ کے چیئرمین قاری حبیب الرحمن زبیری نے کہا ہے کہ حکومت کا آئی ایم ایف کوٹیکس اہداف میں کمی اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے ٹیکس ریلیف کیلئے قائل کرنا خوش آئند ہے
حکومت کو عوام پر 236 کے اور 236 سی کے ٹیکسز کا بوجھ ڈالنا ہی نہیں چاہیے تھے ،605ارب سے زائد ریونیو شارٹ فال کی اصل وجوہات پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے پر لگائے گئے بے جا ٹیکسز ہیں۔
وہ ٹیکس وصولی اور ریونیو شارٹ فال کے مسائل پر مبنی مذاکرے سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع پر ٹیکس ایجوکیشن اینڈ لرننگ کے صدر زوہیب الرحمن زبیری،سینئر نائب صدر عاشق علی رانا،نائب صدور واصف علی شیخ ،محمد عثمان ،جنرل سیکرٹری سید حسن علی قادری،فنانس سیکرٹری سیف الرحمن زبیری ،جوائنٹ سیکرٹری عبدالرحمن اور ایگزیکٹو ممبران بھی موجود تھے ۔ حبیب الرحمن زبیری نے کہا کہ حکومت کا12970ارب کے ٹیکس ہدف کو 12334ارب پر لانے کیلئے آئی ایم ایف کو قائل کرناخوش آئند بات ہے ، اس سے منی بجٹ آنے کے خدشات ختم ہو ںگے ،پراپرٹی سیکٹر کو بہت زیادہ ٹیکس ریلیف کی ضرورت ہے ، اس پر نئے لگائے گئے تمام ٹیکسز کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ پراپرٹی سیکٹر فروغ پا سکے کیونکہ اس کے ساتھ 45سے زائد سیکٹر وابستہ ہیں جو فروغ پائیں گے تو معیشت ترقی کرے گی اور ٹیکس اہداف پورے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک نہ ایک دن ایف بی آر کو مہم جوئی سے روکنا پڑے گا کیونکہ یہ مشق ٹیکس گروتھ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔









