بھارتی حکومت نے ایک نئی کتاب شائع کی ہے جسے ’’آپریشن سندور‘‘ کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔ 117 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں پاکستان کے خلاف بے بنیاد دعوے کیے گئے ہیں، جن کا مقصد نہ صرف بھارتی عوام بلکہ عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔
یہ کتاب مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد پر مبنی ہے، جس میں نہ تحقیق ہے، نہ حوالہ جات، اور نہ ہی کسی سنجیدہ تجزیے کی موجودگی۔ اس میں بیس مختلف بھارتی تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں کے نام شامل کیے گئے ہیں جنہیں بھارتی خفیہ ادارے "را” سے منسلک بتایا گیا ہے، لیکن ان کی رائے کے کوئی ثبوت موجود نہیں۔
کتاب میں ’’پہلگام فالس فلیگ آپریشن‘‘ اور ’’آپریشن سندور‘‘ کے حوالے سے متعدد تضادات پائے جاتے ہیں، جیسے ہلاکتوں کی تعداد اور کارروائی کے دورانیے میں شدید فرق۔
عسکری اور سفارتی غلطیوں کو یا تو سرسری بیان کیا گیا ہے یا مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے، جبکہ بھارتی اداروں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس کتاب میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف غیر شائستہ زبان استعمال کی گئی ہے، اور اسرائیل سے متعلق پالیسیوں پر بھی غیر ضروری تنقید موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تصنیف بھارت کے اندر آزادی اظہار کے زوال اور حکومتی بیانیے کی زبردستی مسلط کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ بھارت میں پروپیگنڈا اب ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے، اور یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔









