منی لانڈرنگ کے سنگین کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کو انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔
ایف آئی اے حکام نے ارمغان سے تفتیش کرنے کے لیے اس کا فیزیکل ریمانڈ طلب کیا۔ عدالت سے این او سی حاصل کرنے کے بعد ملزم کو ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا، جہاں اس سے بین الاقوامی فراڈ اور دیگر سنگین معاملات کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی۔
ارمغان کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، جن میں غیر قانونی کال سینٹر چلانے، مہنگی گاڑیاں خریدنے اور کرپٹو کرنسی میں پیسہ منتقل کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ارمغان کی منی لانڈرنگ کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق اس نے غیر قانونی طریقے سے اربوں روپے کی رقم منتقلی کی۔
عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ارمغان کا 5 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے، اور ایف آئی اے حکام کو مزید تفتیش کرنے کی اجازت دی ہے۔









