پشاور(نیوز ڈیسک)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو مسائل حل کرنے، ملازمتیں پیدا کرنے اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے والے گریجویٹس کی ضرورت ہے، امریکا اور ایران کے درمیان امن میں کردار ادا کرنے پر سول و عسکری قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں منگل کو غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ صوابی کے سالانہ کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی طرف سے غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ کے سالانہ کانووکیشن میں آپ کے درمیان موجودگی میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تمام گریجویٹ ہونے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ کامیابی آپ کی محنت کا نتیجہ ہے۔ آپ کے والدین اور اساتذہ کو بھی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں جن کی بدولت آپ نے کامیابی کا یہ سفر طے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم تعلیمی ادارے کی پاکستان میں اعلی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ہے، یہ انتہائی قابل فخر امر ہے کہ یہ ادارہ کمپیوٹنگ، انجینئرنگ، سائنس، ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے میدان میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ کا نولج اکانومی کے فروغ میں کلیدی کردار ہے، وہ ممالک جو علم کو اہمیت دیتے ہیں وہ آگے بڑھتے ہیں اور جو ممالک دور جدید کے تقاضوں کے مطابق علم کے میدان میں دوسروں پر انحصار کرتے ہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چیلنجز واضح ہیں، ہمیں انحصار کی بجائے پیداوار پر توجہ دینی ہوگی، انوویشن کی طرف جانا ہوگا اور ترقی پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی جس میں غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ جیسے اداروں کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز کی پہچان فارغ التحصیل طلبا کی تعداد سے نہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ریسرچ سے ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں نوجوانوں پر مشتمل سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے جو 60 فیصد سے زیادہ ہے جن سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ہم اپنے نوجوانوں کو علم و ہنر سے آراستہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں انجینیرز، سائنسدانوں اور محققین کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسے گریجویٹس کی ضرورت ہے جو مسائل کو حل کریں، ملازمتوں کو پیدا کریں اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ ملک میں اعلی تعلیم کو فروغ حاصل ہو اور یہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کا وڑن بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ وزیراعظم تھے تو تعلیم ان کی ترجیحات میں سرفہرست رہا، ہم نے تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی اور آج بطور چیئرمین سینیٹ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور ریسرچ کو فروغ دینے کیلیے پرعزم ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ کے کانووکیشن کیلئے یہ ہال کافی نہیں ہے، میں تجویز دیتا ہوں کہ اگلا کانووکیشن اسلام آباد کے کانووکیشن ہال میں منعقد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس موقع پر پاکستان کے سول و عسکری قیادت کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان امن کے قیام میں کردار ادا کیا اور اس امن عمل کی کامیابی کیلیے دعا گو ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور اس سے پوری دنیا کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں پر دہشتگرد ہونے کا الزام لگایا جاتا تھا تاہم اس امن عمل سے اب واضح ہوگیا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے، ہم دہشتگرد نہیں بلکہ امن اور مفاہمت پر یقین رکھنے والے ہیں۔ قبل ازیں چیئرمین سینیٹ نے انسٹیٹیوٹ کے فارغ التحصیل طلبا اسناد تقسیم کیں اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو میڈلز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، سلیم سیف اللہ خان، فیکلٹی ممبران اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس سے قبل انسٹیٹیوٹ پہنچنے پر چیئرمین سینیٹ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
٭٭٭٭٭