پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ دریاؤں کے کنارے ہونے والی غیر قانونی آبادیاں ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، جبکہ موجودہ حکومت نے درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی لگائی ہے اور ریور بیڈز کی میپنگ کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ڈیمز بنانے کے لیے اے ڈی بی میں فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں اور سیلاب سے بچاؤ کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز سیاسی دباؤ برداشت کرنے کے باوجود انکروچمنٹ، پوسٹنگ یا ٹرانسفر جیسے معاملات میں کسی کو رعایت نہیں دیتیں۔ ہماری اولین ترجیح عوام کی جانوں کو محفوظ بنانا ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ صوبہ اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب سے دوچار ہے، راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں غیر معمولی دباؤ ہے، جبکہ خانکی، قادرآباد، ریواز برج، تریموں اور بلوکی جیسے مقامات سے لاکھوں کیوسک پانی گزر رہا ہے۔
سینیئر وزیر کے مطابق، اب تک 20 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں، جن میں سے 7 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو گھروں سے نکالا گیا۔ 1 لاکھ 15 ہزار افراد کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کیا گیا اور تقریباً 5 لاکھ مویشی بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے بھر میں 400 ویٹرنری کیمپس قائم ہو چکے ہیں اور تمام اسکولوں کو عارضی ریلیف کیمپس میں بدل دیا گیا ہے۔ جھنگ، ملتان، مظفرگڑھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، وہاڑی اور اوکاڑہ سمیت کئی اضلاع ہائی الرٹ پر ہیں۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز ذاتی طور پر اس تاریخی ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ 2207 مواضع کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے جبکہ مزید ایک ہزار مواضع متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے بغیر اطلاع دیے اسپیل ویز کھولے جس کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔ فارن آفس اور این ڈی ایم اے اس پر ڈیٹا جمع کر رہے ہیں، جبکہ روڈا اور ہاؤسنگ اسکیموں کے کردار پر انکوائری کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
وزیر کے مطابق، سیلاب سے اب تک 38 افراد کی جانیں جا چکی ہیں، اموات زیادہ تر چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں ہوئیں۔









