انقرہ(انٹرنیشنل نیوز)ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے یہ بات لبنان کے صدر جنرل جوزف عون کے ساتھ صدارتی محل میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر صدر اردوان نے کہا کہ سترہ برس بعد کسی لبنانی صدر کا ترکیہ کا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہے اور صدر جوزف عون کی قیادت لبنان میں امن اور استحکام کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ترک صدر نے بتایا کہ ملاقات میں جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی قبضے، مشرقِ وسطی کی تازہ صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان برسوں سے علاقائی تنازعات کا شکار رہا ہے، اس لیے خطے میں پائیدار امن قائم ہونے سے سب سے زیادہ فائدہ لبنان کو پہنچے گا۔صدر اردوان نے اعلان کیا کہ ترکیہ لبنان کے ریاستی اداروں کی استعداد بڑھانے، انسانی امداد، تکنیکی تعاون اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو میں اپنی بھرپور معاونت جاری رکھے گا۔ انہوں نے لبنان اور شام کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں امن مشن کے اختتام کے بعد اگر لبنان کی سلامتی کے لیے کوئی نیا بین الاقوامی انتظام تشکیل دیا جاتا ہے تو ترکیہ اس میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہے گا، جبکہ لبنانی مسلح افواج کی تربیت اور دفاعی تعاون بھی جاری رکھا جائے گا۔
صدر اردوان نے مزید کہا کہ 2 مارچ 2026 سے جاری اسرائیلی حملوں میں 4 ہزار تین سو سے زائد لبنانی شہری جاں بحق، 2 ہزار سے زیادہ زخمی اور تقریبا 10 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے لبنانی عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ابتدا ہی سے اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرتا آیا ہے اور ہر بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کے انسانیت کے خلاف جرائم کو اجاگر کرتا رہا ہے۔اس موقع پر لبنان کے صدر جنرل جوزف عون نے کہا کہ ترکیہ اور لبنان کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور مضبوط تعلقات موجود ہیں، جنہیں مزید فروغ دینے پر دونوں ممالک کی قیادت متفق ہے۔ انہوں نے صدر اردوان کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نازک علاقائی حالات میں دونوں ممالک کا قریبی تعاون مشرقِ وسطی کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭