لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ اور باپ بیٹے کی مقابلے میں ہلاکت کے معاملے کی تفتیش میں اہم انکشافات، ٹارگٹ کلر فیاض کی بیٹی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 2 سال کے دوران ایک ہی خاندان کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کو کیس اسٹڈی قرار دے دیا گیا، باپ اور دو بیٹوں کی جانب سے پولیس کو ٹارگٹ کرنے کے پسِ پردہ عناصر کی نشاندہی کرلی گئی، ٹارگٹ کلر فیاض کی بیٹی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
21 سالہ ماہ نور شہزادی بھی اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہی جہاں ٹارگٹ کلر فیضان پڑھتا رہا، ماہ نور کو تفتیش کےلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔پولیس ذرائع نے کہا کہ ٹارگٹ کلر فیاض بٹ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، ماہ نور کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کا فرانزک کروایا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹارگٹ کلرز کے گینگ کی نشاندہی ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑی کے ٹریکر سے کی گئی، ملزمان نے ٹریکر کا علم ہونے پر مریدکے کے قریب سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کو چھوڑ دیا۔پولیس نے کہا کہ راوی ریان کے علاقے میں ٹارگٹ کلرز نے ایک گھر میں پناہ لی، مصری شاہ میں ٹارگٹ کلر ریحان بٹ کے گھر سے ہینڈ گرینیڈ بھی برامد ہوگئے، ریحان بٹ اور فیاض بٹ کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلرز سے رابطے میں رہنے والے پولیس اہلکاروں سے تفتیش جاری ہے، پولیس اہلکاروں کے موبائل فونز کا ریکارڈ اور سوشل میڈیا اکانٹس کی جانچ شروع کردی گئی، ٹارگٹ کلر ریحان بٹ، فیاض اور طارق نے سب انسپکٹر عدیل اور کانسٹیبل اسد پر فائرنگ کے بعد موبائل فون بند کردئیے۔
ملزمان نے لوکیشن ٹریس ہونے سے بچنے کے لئے موبائل فون بند کیے، پولیس نے کہا کہ ملزمان کے فرار ہونے والے ساتھی طارق کی تلاش جاری ہے۔اس کے علاوہ ٹارگٹ کلرز کی سہولت کاری کے شبے میں تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ، زیر حراست افراد میں مناواں کا رہائشی رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہے۔شبہ ہے کہ رکشہ ڈرائیور نے ٹارگٹ کلرز کو حملے کے دوسرے مقام تک پہنچایا، پولیس نے کہا کہ رکشہ ڈرائیور پہلے حملے کے وقت بادامی باغ میں موجود تھا۔پولیس حکام نے کہا کہ زیر حراست افراد کی نشاندہی پر مزید کارروائیاں جاری ہیں، ٹارگٹ کلنگ کے پس پشت نیٹ ورک کے قریب پہنچ چکے۔