سیراکوس، اٹلی — فلسطین کے محصور شہریوں کے لیے عالمی ضمیر ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے۔ اٹلی کے ساحلی شہر سیراکوس سے امدادی سامان سے لدی کشتی "ہندالہ” غزہ کی جانب روانہ ہو چکی ہے، جس کا مقصد اسرائیل کی سخت ناکہ بندی کو چیلنج کرنا اور عالمی برادری کو فلسطینیوں کی حالت زار سے بیدار کرنا ہے۔
اس مشن کو فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی جانب سے ترتیب دیا گیا ہے، اور اس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 15 کارکن شامل ہیں۔ کشتی میں طبی سامان، خوراک، ادویات اور بچوں کے لیے اشیائے ضرورت شامل ہیں۔ روانگی کے وقت بندرگاہ پر فلسطینی پرچموں کی بہار تھی اور "فری فلسطین” کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی۔
ہندالہ کشتی ایک ہفتے کے بحری سفر میں 1800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔ اس دوران وہ اٹلی کے شہر گلیپولی میں بھی رکے گی جہاں فرانس کی جماعت France Unbowed کے دو ارکان شامل ہوں گے۔
یہ مشن اس وقت منظرِ عام پر آیا ہے جب چھ ہفتے قبل میڈلین نامی امدادی کشتی کو اسرائیلی نیوی نے روک کر اس پر سوار کارکنان کو ملک بدر کر دیا تھا، جن میں ماحولیاتی رہنما گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔
روانگی سے قبل فرانسیسی رکنِ پارلیمنٹ گیبریل کتھالا نے کہا:
"یہ مہم غزہ کے بچوں کے لیے ہے، ہم اس خاموشی کو توڑنے آئے ہیں۔ اگر اسرائیل نے ہمیں روکا، تو یہ ایک اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔”
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں اب تک 57,882 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کی ہے۔









