لاہور (نمائندہ خصوصی) پنجاب حکومت نے عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان پر قاتلانہ حملے کا نوٹس لے اور اس کی مکمل تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال ، صوبائی وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت اور صوبائی وزیر بلدیات میاں محمود الرشید نے ڈی جی پی آر آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مقبول ترین لیڈر عمران خان پر قاتلانہ حملہ تاریخ کا بڑا واقعہ ہے اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی جس کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان گزشتہ 26 سالوں سے کرپٹ مافیا کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔انہوں نے سٹیٹس کو کو چیلنج کیا جس کی بناء پر ان پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔
ملک پر مسلط 13 جماعتیں نہیں بلکہ یہ مافیاز ہیں جن کی قیادت زرداری ، نواز شریف اور فضل الرحمن کر رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کی سیاست کو گندہ کیا ہے اور یہ کسی صورت پاکستان کے حالات درست ہونے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ عوام کے ساتھ اتنی بڑی ڈکیتی ہوئی اور ادارے خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کا وہ باوقار لیڈر ہے جس نے یو این او میں پاکستان اور اسلام کا پرچم سربلند کیا۔وہ دنیا میں پاکستان کی پہچان ہیں ۔کرپٹ ٹولہ ان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے ۔جب بھی پاکستان میں انتخابات ہوئے تو پاکستان تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی ۔
ایک سوال کے جواب میں سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ وفاق میں بیٹھے حکمرانوں کو عوام کا اعتماد حاصل نہیں ۔اسی لئے ہم نئے انتخابات چاہتے ہیں ۔صوبائی وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت نے کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ نے غیر ذمہ دارانہ اور احمقانہ بیان دیا ہے کہ عمران خان کو گولی لگی ہی نہیں ۔ عالمی برادری تسلیم کرتی ہے کہ ایک سازش کے تحت عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور ان کی جان لینے کی کوشش کی گئی اور وہ آج بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔
کسی شخص نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا لیکن ایک ایسا شخص شائد جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں اس نے عمران خان پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیان دے کرپاکستان کی توہین ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے جو اس بات کا بھی جائزہ لے کہ فرانزک کے لئے جے آئی ٹی کو مطلوبہ چیزیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے بارے میں بھی اعتراض کیا گیا جے آئی ٹی رپورٹ دیتی ہے وفاقی حکومت کو اگر اعتراض ہو تو دیگر فورم بھی موجود ہیں۔
صوبائی وزیر بلدیات میاں محمود الرشید نے کہا کہ رانا ثناء اللہ جیسا گھٹیا ذہنیت کا آدمی وزیر داخلہ ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الفور استعفیٰ دے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر پر قاتلانہ حملے کو سنجیدہ نہ لینا اور کہنا کہ واقعہ ہوا ہی نہیں یہ رویہ قابل مذمت ہے ۔یہ واقعہ اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ ایک پلانٹڈ سازش ہے ۔واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ۔ملزم نوید کو استعمال کیا گیا لیکن اس کے پیچھے پوری کہانی ہے ۔مطالبہ کرتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو سارے معاملے کی مکمل تحقیقات کرے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر کو انصاف کی فراہمی میں روڑے اٹکانا افسوسناک ہے ۔









