اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز کے احتجاج اور شور شرابے کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری پروموشن اور تحفظ کا بل منظور کر لیا گیا۔
پیر کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔سینیٹ اجلاس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کا بل سینیٹ میں پیش کیا گیا، جو معمول کی کاروائی معطل کرکے بل ضمنی ایجنڈے میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تاررڑ نے پیش کیا۔وفاقی وزیر اعظم نذیر تاررڑ نے کہا کہ ریکوڈک کا منصوبہ رک گیا تھا،پی ٹی آئی سینیٹرز کی جانب سے جاری شور شرابے میں بل پیش کرنے کی تحریک منظور کی گئی۔پی ٹی آئی سینیٹرز نے اعظم سواتی کو رہا کرو کے نعرے لگائے، اور نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ ایوان کا ماحوال خراب نہ کریں، اعظم سواتی کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیں گے۔اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کے ڈیسک کا گھرا ئوکیا حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نیشنل پارٹی کے سینیٹر طاہر بزنجو نے بل کی مخالفت کی، دونوں نشست پر کھڑے ہو گئے اور ہاتھ ہلا کر بل کی مخالفت کی۔اسی طرح بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی سینیٹر گل بشری اور بلوچستان ہی کی سینیٹر نسیمہ احسان نے بھی بل کی مخالفت کی۔اس دوران پاکستان تحریک انصاف سینیٹرز کا احتجاج جاری رہا جبکہ بل منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا۔ایوان میں شدید شور شرابے کے دوران سینیٹ نے اس بل کو منظور کر لیا۔بعد ازاں، سینیٹ اجلاس جمعرات تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔









