وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو سیلابی خطرات اور ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے بچانے کے لیے ڈیموں اور چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نارووال کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے موقع پر بریفنگ کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کی طرح اب بھی جانی و مالی نقصانات کا خدشہ موجود ہے، تاہم بہتر پیشگی نظام کے باعث بڑے نقصان سے بچا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیے بغیر فلیش فلڈز اور قدرتی آفات پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ ماحولیاتی آفات کی زد پر ہیں، اور اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے قلیل، درمیانی اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو مل کر مربوط اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ سیلابی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ نارووال سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، مگر تمام اداروں نے بروقت اور مربوط اقدامات اٹھا کر بڑے نقصان سے بچاؤ میں کردار ادا کیا ہے۔









