لندن (سپورٹس ڈیسک )فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے مجوزہ پراجیکٹ پر اعتراضات کے بعد وضاحتی بیان جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ غلط میڈیا رپورٹس سے مشاورتی عمل متاثر ہوا، فیفا تمام 211 رکن ممالک سے حقائق کی بنیاد پر رائے لینے کا خواہاں ہے۔
جاری اعلامیے میں کہا گیاکہ کوئی بھی ایک تنظیم تمام 211 رکن ممالک کی نمائندگی کا دعوی نہیں کر سکتی، فٹبال فروخت نہیں ہو رہا، ایسا فیفا کبھی نہیں کرے گا۔فیفا کا کہنا ہے کہ فیفا فارورڈ انٹرپرائز کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں ذیلی ادارے کے تحت چلانے کی تجویز ہے، مجوزہ منصوبے میں ذیلی ادارہ مکمل طور پر فیفا کی ملکیت اور کنٹرول میں ہوگا۔فیفا کے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی آمدن کا فائدہ تمام 211 رکن ممالک میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے، ہر رکن ملک کو 2027 سے 2030 تک 2 کروڑ ڈالر فیفا فارورڈ فنڈنگ ملے گی، بیرونی سرمایہ کاری کے باوجود فیفا کا کنٹرول اور گورننس تبدیل نہیں ہوگی۔
فیفا کے مطابق اگر اکثریتی رکن ممالک نے حمایت نہ کی تو فیفا فارورڈ انٹرپرائز قائم نہیں ہوگا، مجوزہ منصوبے کی منظوری، ترمیم یا مسترد کرنے کا فیصلہ رکن ممالک کی مشاورت سے ہوگا۔دوسری جانب فیفا صدر جیانی انفینیٹو نے فیفا فارورڈ انٹرپرائز منصوبہ واپس لینے کا اعلان کردیا۔فیفاصدر جیانی انفینیٹو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ منصوبے سےفٹبال میں تقسیم پیدا ہوئی، یہ اب کھیل کے مفاد میں نہیں لہذا فیفا فارورڈ انٹرپرائز منصوبہ واپس لےلیاگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیفا فارورڈ منصوبہ فیفا رکن ممالک کی اکثریت کی حمایت سے مشروط تھا، تمام آرا سننے کے بعد منصوبہ آگے نہ بڑھانےکافیصلہ کیاگیا۔فیفا صدر کا کہنا تھا کہ فیفا کا مقصد ہمیشہ اتحاد اور فٹبال کی بہتری رہا ہے، تمام متعلقہ فریقوں کو دوبارہ ایک میز پرلائیں گے، ضرورت مند ممالک میں فٹبال کےفروغ کا مشن جاری رہےگا۔انہوں نے مزید کہا کہ فیفا فارورڈ منصوبہ باضابطہ طور پرختم کردیا گیا ہے جب کہ تجاویز پر مزید پیش رفت نہیں ہوگی۔