ٹیکسلا (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹرعقیل ملک نے کہا ہے کہ نئے صوبے یا مزید انتظامی یونٹس بنانے سے اس وقت تک کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا جب تک بیوروکریسی میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں اور بیوروکریسی میں موثر ریفارمز کے بغیر ملک کی سمت درست نہیں کی جا سکتی، اگست کے آخر میں کشمیر کے انتخابات کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد سیاسی صورتحال واضح ہو جائے گی، اس کے بعد پیپلز پارٹی کی بھی ”الٹی گنتی“ شروع ہو جائے گی، محسن نقوی کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، جبکہ ملک کے نظام میں موجود خامیوں سے سب واقف ہیں،
مولانا فضل الرحمان کو اپنے ادا کیے گئے الفاظ پر ندامت کا اظہار کرنا چاہئے اور شہداءکے خاندانوں سے معذرت کرنی چاہئے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے واہ کینٹ لالہ رخ میں نجی کاروباری مرکز کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا اس موقع پر مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر حاجی ملک عمر فاروق اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے وفاقی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف و رکن قومی اسمبلی بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معیشت بتدریج مضبوط ہو رہی ہے اور مائیکرو اکنامکس کے شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ معاشی استحکام کے لیے مزید اقدامات اور اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاشی پالیسیوں کے ثمرات جلد عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کلیدی کردار ہے۔ ان کے مطابق حکومت ملک میں معاشی انقلاب لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات جاری ہیں۔وفاقی وزیر مملکت نے کہا کہ معاشی استحکام ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی اور م¶ثر پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ایسے اقدامات پر مرکوز ہے جن کے نتیجے میں عام آدمی کو بھی ریلیف مل سکے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی کردار کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے معاملے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور ان کے بقول ایسا کردار کوئی اور ملک ادا نہیں کر سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بنیادی کردار رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امن اور سفارتی کوششوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے اور عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بیان بازی اور ”لفظوں کی گولہ باری“ معمول کا حصہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کہ مسلم لیگ (ن) کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا جواب پہلے ہی رانا ثنا اللہ دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگست کے آخر میں کشمیر کے انتخابات کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد سیاسی صورتحال واضح ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد پیپلز پارٹی کی بھی ”الٹی گنتی“ شروع ہو جائے گی اور سیاسی معاملات خود واضح ہو جائیں گے۔وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک بیان سے متعلق سوال پر بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ محسن نقوی آج بھی حکومت کا حصہ اور وفاقی وزیر داخلہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، جبکہ ملک کے نظام میں موجود خامیوں سے سب واقف ہیں۔
مقامی حکومتوں کے نظام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ اگر موثر لوکل گورنمنٹ سسٹم موجود ہوتا تو وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے انہیں گلی محلوں کے ترقیاتی کاموں میں براہ راست مداخلت یا کردار ادا کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
انہوں نے کہا کہ لوکل گورننس سے متعلق مسائل موجود ہیں اور اسی وجہ سے ترقیاتی کام اس انداز میں نہیں ہو پا رہے جس طرح ہونے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے یا مزید انتظامی یونٹس بنانے سے اس وقت تک کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا جب تک بیوروکریسی میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں۔ ان کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں اور بیوروکریسی میں موثر ریفارمز کے بغیر ملک کی سمت درست نہیں کی جا سکتی۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی، سروس ڈیلیوری اور فیصلہ سازی کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
ان کے مطابق عوامی مسائل کے موثر حل کے لیے اختیارات، ذمہ داری اور جوابدہی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر مملکت نے کہا کہ انہیں اپنے الفاظ واپس لینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے شہداءنے ملک کی خاطر قربانیاں دی ہیں اور ان کے خاندانوں سے ایسے بیانات پر معافی مانگی جانی چاہیے۔بیرسٹر عقیل ملک نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کی قربانیوں کا احترام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان پر زور دیا کہ وہ اپنے ادا کیے گئے الفاظ پر ندامت کا اظہار کریں اور شہداءکے خاندانوں سے معذرت کریں۔وفاقی وزیر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملکی معیشت کے استحکام، انتظامی اصلاحات، عوامی سہولیات میں بہتری اور پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔