بلوچستان ایک بار پھر خون میں نہا گیا — جمعرات کی رات ضلع ژوب میں ایک ہولناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسلح افراد نے دو مسافر بسوں کو روک کر شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کو زبردستی اتار کر بے دردی سے گولی مار دی۔
یہ افسوسناک واقعہ سرڈکئی کے مقام پر قومی شاہراہ پر پیش آیا۔ ایڈیشنل کمشنر ژوب نوید عالم کے مطابق تمام مقتولین کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے تھا، اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر کے پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔
اس قتل عام کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) نے قبول کی ہے — ایک ایسا گروہ جو ماضی میں بھی ریاستی اداروں اور قومی منصوبوں پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔
واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ:
"شناخت کی بنیاد پر قتل انسانیت سوز جرم ہے۔ دہشت گردوں نے ثابت کیا کہ وہ درندے ہیں، اور ریاست ان کا پیچھا زمین کے نیچے تک کرے گی۔”
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے سفاکیت کی بدترین مثال قائم کی۔
یہ پہلا موقع نہیں جب پنجاب کے شہری بلوچستان میں نشانہ بنے ہیں۔ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے حملے کئی بار ہو چکے ہیں، جن میں درجنوں بے گناہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اسی رات کوئٹہ، لورالائی اور مستونگ میں مزید حملے بھی کیے گئے جنہیں سیکیورٹی فورسز نے کامیابی سے ناکام بنایا، جبکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حکومتی تنصیبات پر بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جن کی تصدیق صوبائی ترجمان شاہد رند نے کی ہے۔ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
بلوچستان — جو ایران اور افغانستان سے جڑا ہوا ہے — کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند تحریکوں اور عسکری بغاوتوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں سیکیورٹی فورسز، سی پیک منصوبے اور دیگر ریاستی اہداف پر حملے معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔









