تہران(انٹرنیشنل ڈیسک )ایرانی سرکاری میڈیا نے کہاہے کہ ایران کے جواب پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران میں منصوبے امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے نہیں بنائے جاتے، ٹرمپ ایران کے جواب سے خوش نہیں تو یہ ایران کے حق میں بہتر ہے۔
ایرانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجاویز ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبات کے آگے ہتھیارڈالنے کے مترادف تھیں۔ایرانی تجا ویز میں امریکا کو جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری پر زور دیا گیا۔ ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم کبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ بات چیت یا مذاکرات کا مطلب شکست تسلیم کرنا یا پسپائی نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ایرانی قوم کے حقوق کا حصول اور قومی مفادات کا دفاع ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات پر بات کی، جبکہ دونوں رہنماوں نے علاقائی و سفارتی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔علاوہ ازیں، ایرانی وزیر خارجہ نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں علاقائی صورِتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔