امریکی سفیر مائیک والٹز

ایران کو فوجی دباﺅ سے زیادہ امریکی اقتصادی پابندیوں کی فکر ہے،امریکہ

نیویارک(انٹرنیشنل نیوز)اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ایران کو فوجی دبا ﺅسے زیادہ امریکی اقتصادی پابندیوں کی فکر ہے جبکہ حماس کو دوبارہ اسرائیل پر حملے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

انٹرویو میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے کہا کہ ایران کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کی نسبت زیادہ خوف ہے، سکاٹ بیسنٹ کی قیادت میں آپریشن اکنامک فیوری ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔مائیک والٹز نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کی میز پر بار بار نقد رقم اور منجمد اثاثوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، ایران میں کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی نے معاشی دبا مزید بڑھا دیا ہے، پاسداران انقلاب ایران کی معیشت کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں کرپٹ اور مذہبی انتہا پسند نظام قائم ہے، ایرانی نظام نے عوام کو دہائیوں سے مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے، اقتصادی دبا کے ساتھ بحری ناکہ بندی بھی ایران پر دبا بڑھا رہی ہے، واشنگٹن کا یہی دبا بالآخر ایران کو مقف میں تبدیلی پر مجبور کر سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مائیک والٹز نے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہو گا، حماس کو دوبارہ اسرائیل پر حملے کی اجازت نہیں دیں گے۔ مائیک والٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو غزہ سے انخلا کے انتظامات سے متعلق تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ حماس ہتھیار پھینک دے ورنہ اسرائیلی فوج اس سے ہتھیار بزورِ طاقت قبضے میں لے لے گی۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے غیر مسلح ہونے پر اتفاق کے بعد 15 نکاتی امن منصوبہ دیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں