کاظم غریب آبادی

ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کردی

تہران،واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز )ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمانی حدود میں واقع بحری راستے کے ایک حصے کا کنٹرول بھی ایران کے پاس ہونا چاہئے۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا عمان نے تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کو دونوں ممالک کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کیا جائے جس کے تحت 50 فیصد راستہ ایرانی اور 50 فیصد عمانی علاقائی پانیوں میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کے مطابق بحری جہاز ایرانی پانیوں سے داخل ہو کر عمانی پانیوں سے گزریں گے۔

ایران نے موقف اختیار کیا ہے کہ بحری گزرگاہ کا وہ حصہ جو ایرانی پانیوں میں واقع ہے اس کا انتظام ایران کرے گا۔کاظم غریب آبادی کا مزید کہنا تھا کہ عمانی پانیوں میں موجود راستے کے ایک حصے کا کنٹرول بھی ایران کے سپرد کیا جائے، اگر عمان نے ایران کی تجویز قبول نہ کی تو آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ علاوہ ازیں ایک بیان میں نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ 15 روز کے دوران امریکا سے مذاکرات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو پہلے والی صورتحال پر واپس لایا گیا تو ایران کی فتح مکمل نہیں ہوگی۔دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام پر صرف ایران اور عمان کا حق ہے۔برطانوی خبررسرںادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب آبنائے ہرمز سے متعلق منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے عمان پر دباﺅ ڈال رہے ہیں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق تہران کسی تیسرے ملک کے کردار کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمان کی آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام کی تجویز کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ایرانی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا مکمل داخلی راستہ اور خارجی راستے کا ایک حصہ ایران کے کنٹرول میں ہونا چاہیے، پچاس، پچاس فیصد مشترکہ کنٹرول کا فارمولہ ایران کے مفاد میں نہیں۔دریں اثنا امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر غیر ضروری مطالبات کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبات کو عمان، امریکا اور عالمی برادری نے مسترد کر دیا ہے۔جاری بیان میں امریکی حکام کا مزید کہنا ہے کہ زیرِ بحث معاہدہ صرف ہم آہنگی کیلئے ہے، اس معاہدے میں کوئی ٹیکس یا فیس شامل نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں