تہران(انٹرنیشنل نیوز )ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ لاکھوں ایرانیوں نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جنازے میں اتحادکامظاہرہ کیا، نہ ہی ایرانی عوام اور نہ ہی ہماری بہادر مسلح افواج کسی دھمکی سے متاثر ہوتی ہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 13 واضح ہے، دھمکیوں کے تسلسل میں حتمی معاہدے پربات چیت شروع نہیں ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ اپنے دستخط کا احترام کریں۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی شہریوں کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تکبر کرنے والی طاقتوں کو اپنے اقدامات کی سزا ضرور ملے گی۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، قالیباف نے یہ بیان اس موقع پر دیا جب مبینہ طور پر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہوگا، اور ایرانی سرزمین پر حملہ کرنے والوں اور اس دھرتی کے شہدا، خصوصا قوم کے رہنما، کے قاتلوں کو اپنے جرائم کی سزا دی جائے گی۔قالیباف نے مزید کہا کہ تکبر کرنے والی طاقتوں سے انتقام کا آخری مرحلہ مقدس شہر قدس کی آزادی کی صورت میں مکمل ہوگا۔