جرمن اخبار فرینکفرٹر الگمائنے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے چار مرتبہ فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم مودی نے ان کی ایک بھی کال وصول نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ طرزِ عمل نئی دہلی کے "غصے اور احتیاط” کی عکاسی کرتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس تناؤ کی بڑی وجہ وہ وقت ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت پر 50 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کیا، جو دنیا کے کسی بھی بڑے ملک پر سب سے زیادہ شرح ہے۔
امریکی تھنک ٹینک کے ماہر مائیکل کوگلمین نے کہا کہ اگر یہ خبر درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات ایک بحران کا شکار ہیں اور دونوں رہنماؤں کی قریبی سطح پر کی جانے والی ڈپلومیسی بھی متاثر ہوئی ہے۔
چند ماہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ بھارت کے انکار کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیرف سخت کر دیے تھے، جس پر نئی دہلی نے ناراضی ظاہر کی۔









