تل ابیب (نیوز رپورٹر)نئی انتظامیہ کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ اسے کمزور رکھنے کے لیے دبائوڈال رہا ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق چار باخبر ذرائع نے تصدیق کی کہ تل ابیب نے امریکہ پر شام کو کمزور اور منتشر رکھنے کے لیے دبا ڈالا اور روس کو ملک میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے وہاں اپنے دو فوجی اڈے رکھنے کی تجویز دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے ساتھ ترکیہ کے اکثر کشیدہ تعلقات شدید دبا ئومیں آئے اور اسرائیلی حکام نے واشنگٹن کو آگاہ کیا کہ دمشق میں نئے حکمران جنہیں انقرہ کی حمایت حاصل ہے، اسرائیل کی سرحدوں کے لیے خطرہ ہیں۔
تین امریکی ذرائع اور رابطوں سے واقف ایک اور شخص نے کہا کہ اسرائیل نے گذشتہ فروری میں واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اس کے بعد امریکی کانگریس کے نمائندوں کے ساتھ اسرائیل میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران سینئر امریکی حکام کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔اس تناظر میں امریکہ میں قائم سنچری انٹرنیشنل تھنک ٹینک کے ساتھی ہارون لنڈ نے کہاکہ تل ابیب کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ترکیہ شام کی نئی انتظامیہ کے تحفظ کے لیے مداخلت کرے گا، جو اسے حماس اور دیگر مسلح گروپوں کے گڑھ میں تبدیل کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے پاس امریکہ پر اثر انداز ہونے کا ایک اچھا موقع ہے، خاص طور پر چونکہ شام اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ روس کو بحیر روم کو نظر انداز کرتے ہوئے شام کے شہر طرطوس میں اپنے بحری اڈے کو برقرار رکھنا چاہیے اور ترکیہ کے کردار کو کنٹرول کرنے کے لیے الاذقیہ کے حمیمیم میں اپنا فضائی اڈہ برقرار رکھنا چاہیے۔
دو امریکی ذرائع نے بتایا کہ جب اسرائیلی حکام نے امریکی حکام کے ساتھ اپنی ملاقات میں روس کی مسلسل موجودگی کی تجویز پیش کی تو وہاں موجود کچھ لوگوں نے حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ نیٹو کا رکن ترکیہ اسرائیل کی سلامتی کا بہتر ضامن ہوگا۔لیکن اسرائیلی حکام اپنی تجویز پر پرعزم دکھائی دیے۔غور طلب ہے کہ شام کی نئی قیادت اب بھی روس کے ساتھ دو فوجی اڈوں کے مستقبلکے بارے میں بات چیت کر رہی ہے۔شام کی نئی انتظامیہ اپنے ارادوں کے بارے میں عرب اور مغربی ممالک کو یقین دلانے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں کے لیے خطرہ نہیں بنے گی۔
شام ان حکومتوں کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرے گا جنہوں نے اسد سے خود کو دور کر رکھا ہے۔ شام کے صدر احمد الشرع نے دسمبر میں غیر ملکی صحافیوں کو بتایا تھا کہ دمشق اسرائیل یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتا۔لیکن ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ نئی حکومت کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور نئی شامی فوج مستقبل میں اسرائیل پر حملہ کر سکتی ہے۔
امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے یہ مربوط اسرائیلی دبا دمشق کے لیے ایک نازک موڑ پر آتا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بشارلا سد نے اسرائیل کے دیرینہ دشمن ایران کے ساتھ اتحاد کے باوجود کئی سالوں تک اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے ساتھ سرحد کو خاموش رکھا۔اسد کی معزولی کے بعد اسرائیلی فوج نے شام کے فوجی اڈوں پر شدید فضائی حملے کیے اور اپنی فوج کو جنوبی شام میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی غیر فوجی علاقے میں منتقل کر دیا۔









