مفتاح اسماعیل

کر اچی پورٹ پر پہنچنے والے تیل کی اصل قیمت 200 روپے ہوتی ہے،مفتاح اسماعیل

کراچی(نیوز ڈیسک)سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ جو تیل کراچی پورٹ پہنچتا ہے اس کی اصل قیمت 200 روپے ہوتی ہے، پاکستانی آئی پی پیز کا مسئلہ تو حل ہو گیا ہے لیکن چینی آئی پی پیز کے معاملے پر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو اب مزید آئی پی پیز کے ساتھ پاور پروجیکٹس نہیں لگانے چاہئیں اور مزید سرکاری گارنٹیاں دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

ایک انٹرویو میں مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا کہ حکومت کی اطلاعات کے مطابق مزید 14 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، جبکہ ایک طرف پہلے ہی اضافی بجلی موجود ہے جسے فروخت نہیں کیا جا سکتا اور دوسری طرف 26 ارب ڈالر کی مزید بجلی پیدا کرنے کی باتیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں پر بات کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ جو تیل کراچی پورٹ پہنچتا ہے اس کی اصل قیمت 200 روپے ہوتی ہے، جبکہ اس پر عوام جو 140 روپے اضافی ادا کرتی ہے اس میں سے 105 روپے اکیلا حکومتی ٹیکس ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر چیز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس دیا جاتا ہے، لیکن پیٹرول پر یہی ٹیکس لیوی کی صورت میں 40 فیصد وصول کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ عوام سے فی لیٹر 20 روپے کسٹم ڈیوٹی بھی لی جا رہی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جس ملک میں حکومت امیروں، جاگیرداروں اور رئیل اسٹیٹ سے ٹیکس نہ لے سکے، وہاں سارا بوجھ مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ایک عام آدمی روزانہ پیٹرول خریدتے وقت حکومت کو 125 سے 130 روپے بطور ٹیکس دیتا ہے اور پیٹرول پر 40 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص مرسڈیز گاڑی خریدے تو اس پر صرف 18 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے۔حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے دو مرتبہ غلط فیصلے کیے، ایک تو 7 مارچ کو فارمولے کے تحت قیمت نہیں بڑھانی چاہیے تھی لیکن پھر بھی بڑھائی گئی اور یہ بیانیہ بنایا گیا کہ تیل کی کمی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے موقف اپنایا کہ اگر تیل کی کوئی قلت ہو بھی سکتی تھی تو اسے انتظامی اقدامات کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔سابق وزیر خزانہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب بھی معاملہ عوام اور کمپنیوں کے درمیان آتا ہے تو پاکستان کی حکومت کا جھکا ﺅ ہمیشہ کمپنیوں کی طرف ہوتا ہے۔انہوں نے مثال دی کہ ملک میں چینی کا معاملہ ہو تو ملز مالکان سے پہلے ایکسپورٹ اور پھر امپورٹ کروا کر قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں، کیونکہ حکومت نے ہمیشہ سرمایہ کاروں، اسٹاکسٹس اور کمپنیوں کا فائدہ دیکھا ہے اور کسی کو بھی عام عوام کا کوئی سروکار نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں