امریکی خاتون

ویلنشیا ٹائون میں امریکی خاتون اور تین بچوں کی ہلاکت کا معمہ حل، ماں ہی مرکزی کردار قرار

لاہور (کرائم رپورٹر) لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹائون میں مقیم امریکی نژاد خاتون اور ان کے تین بچوں کی ہلاکت کے پراسرار مقدمے کا معمہ حل ہو گیااور بچوں کی ماں کی انکی قاتل نکلی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ بچوں کی سفاک ماں ہی اس واقعہ کی مرکزی ملزمہ ثابت ہوئی ہے، کیس میں ملوث مزید 2افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں ایک کیمیکل شاپ کا مالک جبکہ دوسرا رائیڈر ہے۔

سید ذیشان رضا کے مطابق گرفتار کیمیکل شاپ کا مالک آن لائن کیمیکل فروخت کرتا تھا اور اسی کے ذریعے مقتول خاتون کو زہریلا کیمیکل فراہم کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال 17جولائی کو ویلنشیا ٹائون میں 40برس کی امریکی شہری علینہ اور ان کے تین بچوں کی لاشیں گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔ابتدائی طور پر کھانے میں زہر کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا اور بچوں کے والد ناصر ڈوگر کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، شوہر نے الزام عائد کیا تھا کہ میری غیر موجودگی میں اہلیہ نے آئس کریم میں زہر ملا کر بچوں کو کھلایا۔

بعد میں پولیس نے ٹیلی فون کے ذریعے امریکہ اور کینیڈا میں مقیم علینہ کی بہنوں کے بیانات بھی قلم بند کیے جنہوں نے تصدیق کی کہ خاتون ذہنی عارضے کا شکار تھیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان روانگی سے قبل علینہ نے اپنی ادویات کا استعمال کم کر دیا تھا، واقعہ کے بعد امریکی سفارت خانے کے حکام نے بھی تفتیشی ٹیم سے رابطہ کیا تھا۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے مزید بتایا کہ امریکی نژاد خاتون طویل عرصے سے ذہنی عارضے میں مبتلا تھیں اور آن لائن، مرنے کے مختلف طریقے سرچ کرتی رہتی تھیں، اسی دوران ان کا رابطہ آن لائن کیمیکل فروخت کرنے والے ایک دکان کے مالک سے ہوا جس نے زہریلا کیمیکل فراہم کرنے کے عوض ایک لاکھ 38ہزار 540روپے بذریعہ منی گرام وصول کیے۔

خاتون نے کیمیکل پر مشتمل پارسل اپنی ایک دوست کے گھر منگوایا، 16جولائی کو خاتون نے نجی پیزا شاپ پر اپنی دوست کے ہمراہ کھانا کھایا اور وہیں سے کیمیکل والا پارسل وصول کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگلے روز 17جولائی کو انہوں نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر تینوں بچوں کو کھلا دی، بچوں کو زہر ملی آئس کریم کھلانے کے بعد ملزمہ نے خود بھی وہی آئس کریم کھائی اور بعد میں اپنے شوہر ناصر کو بھی زہر آلود آئس کریم کھلانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ علینہ کے شوہر ناصر کا پولی گرافک ٹیسٹ کرایا گیا اور ان سے مکمل تفتیش کی گئی جس کے بعد وہ اس واقعہ میں ملوث نہیں پائے گئے، تمام حالات و واقعات اور فورینزک رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزمہ نے بچوں کو زہر دینے کے بعد خود کشی کر لی۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ شوہر ناصرکا پولی گرافک ٹیسٹ اور مکمل تفتیش کی گئی تاہم فرانزک شواہد سے یہی ثابت ہوا کہ خاتون نے اپنے بچوں کو زہر دے کر خودکشی کی، پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگرشواہد کی مدد سے کیمیکل کی فراہمی میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ملزمان کو پیشہ وارانہ مہارت اور سی سی ٹی کیمروں کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔پولیس پراسیکیوشن پارٹنر شپ کی مدد سے گرفتار ملزمان کا مضبوط چالان مرتب کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائیگی،قانون شکن عناصر سے آہنی ہاتھوں کیساتھ نمٹا جائے گا۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس واقعے کا صرف ایک پہلو سامنے آیا ، علینہ ڈپریشن کا شکار تھی ، علاج معالجہ بھی چلتا رہا ، خاتون ڈپریشن کی ادویات بھی لیتی رہیں ،خاتون نے فیس بک پر زہر خریدنے کے لیے دکاندار سے رابطہ کیا ، خاتون پوٹاشیئم سایانائیڈ کی ڈیلیوری امریکہ میں کروانا چاہتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آئی کی ٹیم نے علینہ کے خاندان سے بھی ملاقات کی ۔

امریکن نیشنل خاندان ہونے کیوجہ سے ایف بی آئی کے کنسرن تھے ۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کی طرف سے پولیس ٹیم کے لئے نقد انعام اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں